سپریم کورٹ کا حکم، پی آئی اے کے چھ ایئربس طیاروں کی خریداری میں گھپلوں کی تحقیقات کا آغاز

سپریم کورٹ کے احکامات پر ایف آئی اے نے پی آئی اے کے چھ ایئربس 310 طیاروں کی خریداری سے متعلق بد عنوانی کی تحقیقات کا آغاز کر دیا اور اس حوالہ سے چیف ٹیکنیکل افسر سمیت دیگر متعلقہ افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے یہ تحقیقات 2004 میں ڈرائی لیز پر حاصل کردہ چھ ایئر بس300 طیاروں کے حوالے سے کی جارہی ہیں. کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کی جانب سے 2012 میں لیز کے خاتمے پر مینٹینس کی مد میں ادا شدہ 57 ملین ڈالرزکی واپسی کا کلیم کیا جس پر ایئر بس نے کلیم کی ادائیگی کے بجائے پی آئی اے کو مذکورہ طیاروں کی ملکیت جاری کر دی. طیاروں کی یہ ملکیت مبینہ معاہدے کے تحت 32 ملین ڈالرز کے عوض جاری کی گئی ہے.

رپورٹ میں‌ بتایا گیا ہے کہ ایئر بس نے پی آئی اے کے نام 15 ملین ڈالرز اد اکرنے کیلئے کریڈٹ نوٹ جاری کیا اور اس کریڈٹ نوٹ کی ادائیگی بھی ابھی تک پی‌ آئی اے کو نہیں‌ کی گئی ہے. یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں سابق ایم ڈی کیپٹن ندیم یوسف زئی جو 2012 میں تعینات تھے، ان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے جبکہ سابق ایم ڈی کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کے ذمہ دار مبینہ طور پر اس وقت کے چیئرمین پی آئی اے ہیں.

واضح‌ رہے کہ پی آئی اے کے چھ ائربس 310 طیاروں کی خریداری کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر پی آئی اے کے چیف ٹیکنیکل آفیسر اور دیگر عہدیداران کو طلب کر کے تحقیقات کی جارہی ہیں. ایف آئی اے کی طرف سے 2004سے2012 کے دوران تعینات سی ٹی او اور چیف انجینئرز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں. اسی طرح چیف ٹیکنیکل افسرسے طیاروں کے مرمتی کام کے حوالے سے ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیاہے۔ یاد رہے کہ پی آئی اے میں اس سے قبل بھی بے ضابطگیوں‌کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور قومی ایئر لائن کو کرپشن کے واقعات کے سبب شدید خسارے کا سامنا رہا ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.