fbpx

سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے ہو گی، سپریم کورٹ ،ریڈ زون کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سماعت کے باعث سپریم کورٹ آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا سیرینا چوک اور مارگلہ روڈ سے گاڑیوں کا ریڈزون میں داخلہ ہوگا ریڈزون میں میڈیا اور سرکاری ملازمین کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سپریم کورٹ پہنچے لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث پولیس نے داخلے کی اجازت نہ دی
فرحت اللہ بابر واپس روانہ ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف کیس سے متعلقہ افراد کو داخلے کا حکم دیا گیا صرف کیس سے متعلقہ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی ،وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے گیٹ لاک کردیا، آغا حسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،قانون پارلیمان کا کام ہے، عدلیہ کا کام غیرجانبداری سے انصاف ہے،

سپریم کورٹ کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا، موبائیل جیمزز فعال کر دیا گیا سیاسی قائدین کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے عدالت میں ہمارے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے پرسوں لاہور میں تو عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے وہاں پابندی کیوں نہیں لگائی؟

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا نے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی

سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جگہ محدود ہے صورتحال کنٹرول کرنامشکل تھا،سپریم کورٹ کے باہر بھی کارروائی سننے کا شاید انتظام کیا گیا ہے، جائز تنقید پر قدغن نہیں ، عدلیہ پر تنقید قابل مذمت ہے جو کہنا ہے عدالت کے سامنے کہیں،سپریم کورٹ میں دونوں طرف سے چند لوگوں کے داخلے کا فیصلہ کیا گیا، جب کوئی فل کورٹ کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس دفاع کے کوئی دلائل نہیں،

آج شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چودھری،شیریں مزاری اور عمر ایوب سپریم کورٹ جائیں گے پی ٹی آئی کے بابر اعوان ،پرویز خٹک اور عامر کیانی بھی سپریم کورٹ جائیں گے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان ،اسعد محمود،خالد مقبول صدیقی اور امیر حیدر ہوتی بھی سپریم کورٹ آئیں گے اختر مینگل،اسلم بھوتانی ،شاہد خاقان عباسی ،خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ کی بھی سپریم کورٹ آمد متوقع ہے اعظم نذیر تارڑ،احسن اقبال،سعد رفیق ، امیر مقام ، ایاز صادق،عطا تارڑ،ملک احمد بھی عدالت جا ئیں گے سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت،سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی بھی عدالت آمد متوقع ہے

حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی اور آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی،الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلیں بھی رولنگ کیس کیساتھ سننے کی استدعا کر دی،درخواست میں کہا گیاکہ منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کیخلاف عمران خان کی ہدایات کو تسلیم کیا،سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی،اپیلیں منظور کی گئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے

دوسری جانب سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت کے حوالہ سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ درخواست خارج کی جائے،

پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پرویز الہی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کا موقف سنا جائے۔

سپریم کورٹ میں جے یو آئی نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کردی اور عدالت سے استدعا کی کہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، موقف سنا جائے ،ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ڈپٹی سپیکر کو خط 22 جولائی کو لکھا گیا اور ڈپٹی سپیکر نے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ گنتی سے نکال دیئے ایم پی ایز کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی تھےمیں اس کیس کا متعلقہ فریق ہوں لہٰذا مجھے کیس میں پارٹی بنایا جائے

حکومتی اتحاد فل بینچ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ن لیگی رہنماؤں سمیت مولانا فضل الرھمان نے بھی پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ فل بینچ بنایا جائے،

دوسری جانب پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پنجاب کابینہ کی تشکیل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وکیل پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیںعدالت نے مختصر کابینہ بنانے کا حکم دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہیں دیا جائے گا، عدالت نے حمزہ شہبازکو ٹرسٹی وزیراعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے تجاوز کیا،

فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے