fbpx

سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی، عدلیہ نے کہا مراسلے سے متعلق تفتیش نہیں ہوئی، جب صدر نے عدالت عظمیٰ کو مراسلہ بھیجا تب چیف جسٹس نے تحقیقات کیوں نہیں کرائی۔

سلیم صافی کی عمران خان اور بشری مانیکا کو 4 دن کی مہلت اسکے بعد چھپے راز فاش کرنے کا اعلان

ڈیرہ غازی خان میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان، اسپیکر نے مراسلہ چیف جسٹس کو بھجوایا تھا، امریکی انڈر سیکریٹری ڈونلڈ لو کس کو پیغام دے رہا تھا؟ سپریم کورٹ انکوائری کرے اور کمیشن بنائے۔انہوں نے کہا کہ منٹس موجود ہیں کہ میں نے وہ مراسلہ پہلے کابینہ، نیشنل سیکیورٹی کونسل، پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جس میں واضح تھا کہ امریکی انڈر سیکریٹری ہمارے سفیر کو کہتا ہے عمران خان کو ہٹاؤ ورنہ مشکل میں آجاؤ گے۔

 

سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اتحادیوں کے کیس نیب منتقل کرنے میں سرگرم رہے۔ انکشاف

 

عمران خان نے کہا کہ امریکا کی دھمکی میرے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے تھی، سوال کرتا ہوں کہ 22 کروڑ عوام کے حامل ملک کے لیے اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فیصلے پر کہا ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کو جس طرح سازشی بیانے کا رنگ دینے کے لیے جھوٹ گھڑا وہ انتہائی قابل شرم ہے