fbpx

سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب کی معافی مسترد کر دی، کہا حکم جاری کریں گے

سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب کی معافی مسترد کر دی، کہا حکم جاری کریں گے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں فراڈ سے متعلق مقدمہ میں ملزم سیف الرحمان کی احاطہ عدالت سے گرفتاری کیس کی سماعت ہوئی

ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی اور ڈی جی ایچ آر نیب سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی سپریم کورٹ نے نیب کا معافی نامہ مسترد کر دیا،تحریری طور پر معافی نامہ جمع کرانے کا حکم دے دیا .ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے عدالت میں کہا کہ میرے 17 سالہ کیریئر میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ ہے غیر ارادی طور پر نیب اہلکاروں نے سپریم کورٹ کے احاطہ کی توہین کی،100ارب سے زائد کا فراڈ ہوا ہے، ملزم ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود چھپ گیا تھا، ملزم جس گھر میں چھپا تھا نیب ٹیم 5 روز تک گھر کے باہر رُکی رہی مگر داخل نہیں ہوئی . قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ملازمین نے احاطہ عدالت میں جو کیا اسکی کسی عدالت میں اجازت نہیں .نیب ملازمین کے کنڈیکٹ پر حکم جاری کریں گے

ڈی جی نیب پنڈی عرفان نعیم منگی نے کہا کہ ملزم سیف الرحمان پر 116 ارب روپے فراڈ کا الزام ہے سیف الرحمان کیس کے4 لاکھ سے زائد متاثرین ہیں،خدشہ تھا ملزم ایران کے بارڈر سے فرار ہو جائے گا، قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر عدالتی دروازہ پر ظلم ہوگا تو کون عدالت آئے گا؟ عدالت کا دروازہ معصوم اور ملزم سب کے لیے کھلا ہوتا ہے،

سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب راولپنڈی نے سرمایہ کاری کے نام پر عوام سے فراڈ کے کیس میں ملوث نجی کمپنی کے مالک سیف الرحمان کو سپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار کر لیا جس پر قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ملزم ضمانت کے لیے سپریم کورٹ آیا تھا احتساب بیورو وضاحت کرے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے احاطہ عدالت میں دراندازی کیوں کی گئی؟ ملزم سیف الرحمان کی طرف سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ عدالت پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میرا موکل ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے عدالت سرنڈر کرنے آرہا تھا اور اس دوران نیب کی گاڑی نے میرے معاون وکیل کی گاڑی کو ہٹ کیا جس کے بعد نیب حکام احاطہ عدالت سے میرے موکل کو گرفتار کرکے لے گئے