fbpx

سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوا دیا

سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوا دیا

عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین نیب آڈیٹر جنرل رپورٹ کا جائزہ لیکر ابتدائی رپورٹ 3 ماہ میں پیش کریں، نیب سرکاری فنڈز کی خوردبرد میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرے ،تھر کے لوگ بنیادی سہولیات اور پینے کے پانی کو ترس رہے ہیںٹھٹھہ، منوڑا اور سجاول کے حالات بھی اچھے نہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی ٰسندھ سمیت کسی سرکاری عہدیدار کی معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں،سارا پیسہ ایک اکاونٹ سے نکل کر دوسرے میں چلا گیا اسی لیے دلچسپی نہیں،سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت3 ماہ کیلئے ملتوی کر دی

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں سندھ حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ چیئرمین نیب کو بجھوا دیتے ہیں، چیئرمین نیب رپورٹ کو دیکھیں کہ کیا کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بنتا ہے، رپورٹ کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے فنڈ کا استعمال شفاف انداز میں نہیں ہوا،آر او پلانٹ ضرورت کے مطابق قائم ہوئے نہ ہی پینے کا صاف پانی دستیاب ہے،واٹر فلٹریشن پلانٹ کیلئے سولر پاور جنریشن پلانٹ بھی قائم نہ ہوسکے،موبائل ایمرجنسی ہیلتھ یونٹ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی،اسپیشل ترقیاتی پیکج کے فنڈ کا بھی غلط استعمال ہوا،سندھ حکومت نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا،بظاہر ترقیاتی اور فلاحی فنڈز میں خورد برد اور بے ضابطگیاں اور غلط استعمال ہوا،سندھ حکومت کو سارے معاملے کی کوئی پرواہ نہیں،بظاہر ترقیاتی فلاحی منصوبے فعال نہیں ہوئے،

کرونا وائرس، چین میں ہلاکتوں میں اضافہ ،کتنے پاکستانی چین میں ہیں ؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خدشہ، ملتان کے بعد لاہور میں بھی چینی باشندہ ہسپتال داخل

وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

تھرکول پاور پراجیکٹ کو 27 سال بعد پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ 1992ء میں جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں تھر کے علاقے سے 175 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے تو انہوں نے "تھرکول پاور پراجیکٹ” پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا، شروع شروع میں کوئی بھی کمپنی پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کرنے کے لیے سندھ حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں تھی کیونکہ پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان کو مختلف ذرائع سے ڈرایا دھمکایا جاتا رہا کہ یہاں پر آپ اپنی انویسٹمنٹ تیار ہوئی کہ اس "پاور پراجیکٹ” میں سندھ حکومت خود بطور "انویسٹر” ہمارے ساتھ کام کرے۔ چنانچہ 2009ء میں سندھ حکومت اور اینگرو کمپنی کے درمیان پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معاہدہ ہوا اور ایک کمپنی "اینگرو کول مائننگ” کے نام سے تشکیل پائی گئی جس نے 2016ء میں "تھرکول پاور پراجیکٹ” پر کام شروع کیا

تھرکول پاور پراجیکٹ میں 51 فیصد شیئرز سندھ حکومت کے پاس ہیں اور سندھ حکومت نے یہ شیئرز تھر کے مقامی رہائشیوں کے نام کر دیے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سندھ حکومت میں مقامی لوگوں کو کسی بڑے میگا پراجیکٹ کا شیئر ہولڈر بنایا گیا ہے۔تھرکول پاور پراجیکٹ کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کو سندھ حکومت نے نئے گھر، 70 فیصد تھرکول پاور پراجیکٹ میں نوکریاں اور سالانہ "ایک لاکھ روپے” بطور منافع مقامی لوگوں کو ادا کیا ہے۔ سندھ حکومت نے تھر میں "تھر فاؤنڈیشن” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے جو تھرکول پاور پراجیکٹ سے حاصل ہونے والے منافع کو "تھر کی بہتری” کے لیے استعمال کرے گا۔ ماحولیاتی آلودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے "تھرکول پاور پراجیکٹ” میں ایسا سسٹم تشکیل دیا گیا ہے جس سے 50 فیصد آلودگی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے

سی پیک منصوبے، وزیراعظم نے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر چین بھی حیران رہ جائے

@MumtaazAwan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!