fbpx

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو کب تک مکمل کرنے کا حکم دیا؟ فیصلہ سامنے آگیا

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے 9 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکلرریلوے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹریک سے تجاوزات ختم ہوگئے تو کیارکاوٹ ہے۔سیکریٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ کے سی آر کا کراچی سٹی سےڈرگ روڈ تک ٹرین روٹ آپریشنل ہے تاہم اس وقت ناظم آباد پر گرین لائن کا ٹریک رکاوٹ بن رہا ہے اور وہاں انڈر پاس یا فلائی اوور بنے گا۔ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ گلشن اقبال بلاک 4 میں نالہ درمیان میں آرہا ہے۔جسٹس اعجاز الحسن نےریمارکس دئیے کہ 25 ملین روپے جس کام کیلئے لئے تھے وہ تو کرلیتے۔نومبر 2020 میں کراچی سرکلر ریلوے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پرعدالت نے ایف ڈبلیو او کوٹھیکہ نہ دینے پراظہارِ برہمی کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ ایف ڈبلیو او نے تاحال کام کیوں نہیں شروع کیا، ہم نے تو سنا تھا کہ ڈیزائن ایف ڈبلیو او بنا رہا ہے۔ اس پرڈی جی ایف ڈبلیو او نےعدالت کو بتایا تھا کہ ہم نےڈیزائن بنا کردیا تھا لیکن سندھ حکومت نے تاحال منظور نہیں کیا،ریلوے نے ڈیزائن اور سندھ حکومت نے کام شروع کرنے کا حکم دینا ہے، سندھ حکومت نے ہمیںابھی تک ٹھیکہ نہیں دیا۔واضع رہے کہ کراچی سرکلرریلوے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری جس میں تیرہ اگست کو ہونے والی سماعت میں عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ کے سی آر روٹ پر سے تجاوزات کا خاتمہ کيا جائے، تمام رکاوٹيں فوری طور پر ختم کی جائيں۔ سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کو کراچی سرکلر ریلوے کيلئے 10 انڈر پاسز بنانے کی ذمہ داری بھی دی تھی۔ سيکريٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا تھا کہ انڈرپاسزکی تعمیر کیلئے5 ارب روپے مختص کئےگئےہيں جبکہ منصوبےکیلئے3 ارب روپے پہلے جاری کئے جاچکے ہیں۔عدالت نے پاکستان ريلوے کو سندھ حکومت کے اشتراک سے دیگر کام جاری رکھنے کا بھی حکم دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.