fbpx

سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ کا بڑا اچھا فیصلہ ہے
جو چیز یں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں، میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس رولز کے مطابق ہو گا کوئی پسند ،ناپسند نہیں ہوگی ۔

چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی کہا ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت اور پولیس استعمال نہیں کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ 22جولائی تک ہاوس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو گا.

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ22جولائی کو اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگا اور کہیں نہیں ہوگا ، جو ماحول عدالت کے اندر بنا وہ عدالت کے باہر بھی رہنا چاہئیے، یہی جمہوریت ہے.

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ عدلیہ نے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار کر دی ہے ،امید کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہونگے ۔

قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، تین ماہ کا بحران ہم نے 3 سیشنز میں حل کردیا ہے،حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس بینچ میں شامل تھے۔

لاہور سے پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان یا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ کےلیے قائم مقام وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے، ، کیس کا تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے کیس کی سماعت آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی تھی اور پرویز الہٰی کو حکم دیا تھا کہ وہ عمران خان سے رابطہ کرکے آدھے گھنٹے میں عدالت کو آگاہ کریں، جس کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان کی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حمزہ کو قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری قانون پر عمل کریں۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کا حصہ ہے، الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں، الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حمزہ شہباز صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کوئی دھاندلی نہیں ہو گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت مجموعی حکم جاری کرے گی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کو خاندانی تنازع نہ بنائیں تو بہتر ہے۔

حمزہ شہباز کو نگراں وزیر اعلیٰ بنانے پر پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے درمیان اختلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید روسٹرم پر آئے، اور انہوں نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے، انتخاب کے لیے17 جولائی کے بعد کا وقت دے دیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے محمود الرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اپنے پارٹی لیڈر سے مشاورت کر کے15 منٹ میں عدالت کو آگاہ کروں گا، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک قانونی پوزیشن لیں اور ہمیں بتائیں، جو حکم جاری کریں گے وہ کسی ایک کے فائدے میں نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بابر اعوان صاحب! آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟بابر اعوان نے بتایا کہ درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں، 16 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی، لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے، ایک جج نے کہا ہے کہ انہوں نے 197 ووٹس حاصل کیے، اگر 25 ووٹ نکال لیں تو 172 ووٹ بچیں گے، اس طرح پہلے پول میں حاصل اکثریت چلی گئی تو یہ انتخاب متنازع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کرائی جائے، ممبران جو موجود ہوتے ہیں اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں، ان کے ووٹ شمار ہوتے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کے لیے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے؟

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے، آپ بتائیں کہ آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں؟ آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست تو یہ ہے کہ کچھ اراکین حج پر، کچھ شادی بیاہ پر گئے، ان کو آنے دیں، سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے؟ کیا پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے؟ کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟

اس پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں دوبارہ انتخابی عمل کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے 7 دن کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں، آپ کے منحرف اراکین کے ووٹ پہلے ہی نکل چکے ہیں، پی ٹی آئی کے اراکین کو لاہور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، ہم تجویز پر رضا مند نہیں ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پرویز الہٰی امیدوارہیں انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے عدالت میں کہا کہ محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاشرے میں بہت تقسیم ہوگئی، سیاست میں بہت تقسیم بھی ہوگئی، آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟

بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے،حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئینی خلا نہیں بنانا۔پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن کریں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان سے سوال کیا کہ آپ کے امیدوار کی مرضی کچھ اور ہے، دوسری سائیڈ سے ان کا اتفاق رائے ہے، آپ کی اب مرضی کیا ہے؟ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے؟بابر اعوان نے کہا کہ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورت حال ہے، اسے حل کریں، مزید خراب نہ کریں۔بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن یہ الگ جماعتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز17 جولائی تک وزیر اعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔