fbpx

سپریم کورٹ نے کینٹ بورڈز کو نجی اسکولز سیل کرنے سے روک دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کینٹ بورڈز کو نجی اسکولز سیل کرنے سے روک دیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ علاقوں سے نجی اسکولز کی بے داخلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کینٹ بورڈز کو نجی سکولز سیل کرنے سے روکتے ہوئے ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز کو نوٹس جاری کر دیئے اور جواب طلب کرلیا۔

نجی اسکولز کے وکیل نے کہا کہ کینٹ بورڈز میں 8300 نجی اسکولز اور 37 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، اب اسکولوں کو سیل کیا جا رہا ہے، بچے کہاں جائیں گے، سپریم کورٹ نے نجی اسکولز کو سنے بغیر فیصلہ دیا تھا۔

آل سندھ پرائویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا اجلاس

والدین کے وکیل نے کہا کہ اصل کیس تو رہائشی پلاٹ پر اسکول بنانے کا تھا، ایک سول کیس میں موقف سنے بفیر سخت حکم جاری کیا گیا عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی جانب سے اسکولز کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرنے کے نوٹسز بھیجے جانے پر آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملک بھر کے کنٹونمنٹ ایریاز سے ہزاروں اسکولز کی منتقلی لاکھوں بچوں، ان کے والدین اور لاکھوں اساتذہ کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا سبب ہو گی۔

گذشتہ پینتیس سے چالیس سالوں میں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا لیکن سرکاری سطح پر علاقائی ضرورت کے لحاظ سے تعلیمی سہولیات میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ جس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے پرائیویٹ اسکولز مقامی ضرورت، مقامی اسکول، مقامی سہولت کے اصول پر قائم کیے گئے۔ اور نہ ہی تین سال قبل آنے والے فیصلے کی روشنی میں کوئی متبادل میکانزم تیار کیا گیا۔

وارننگ کےبعد سندھ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے کل تعلیمی ادارے بند رکھنےکا اعلان کردیا

ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں 42 کینٹونمنٹ ایریاز میں محتاط اندازے کے مطابق 20 ہزار سے زیادہ اسکولز میں لاکھوں بچے زیر تعلیم اور کئی لاکھ اساتذہ بر سر روزگار ہیں جبکہ تعلیم سے جڑے درجنوں چھوٹے چھوٹے کاروبار سے وابستہ لاکھوں افراد کا معاشی پہیہ بھی چل رہا ہے کسی منصوبہ بندی، زمینی حقائق اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر ایگزیکٹو آرڈر اور نوٹسز کے ذریعے اسکولوں کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ باہر سے کیا مطلب سمجھا جائے کتنی دور اور کہاں! کسی کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ آئین پاکستان میں تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے عالمی معاہدوں کی رو سے بھی ریاست ہی پابند ہے۔ 20 ملین بچے اسکولز سے باہر ہیں اورجو بچے اسکولز میں ہیں بھی ان کی بڑی تعداد معیاری تعلیم سے دور ہے۔

حکومت ایک دن میں 33 بل ایوانوں سے منظور کرسکتی ہے تو کنٹونمنٹ ایکٹ میں بھی ترمیم کرے،پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن

ان حالات میں لاکھوں بچوں کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ متوسط طبقے کے والدین بچوں کو اسکول لانے، لیجانے کے اضافی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح خواتین اساتذہ کے لیے بھی دوردرازعلاقوں میں جانا ممکن نہیں ہےتعلیمی سال کی آخری سہ ماہی باقی ہے ایسے میں اسکولوں کی منتقلی یا بندش کی خبروں سے تعلیم کے تمام اسٹیک ہولڈرز میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے صدر مملکت، آرمی چیف، وزیر اعظم اور کنٹونمنٹ بورڈز کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ تعلیم جیسے اہم اور بنیادی حقوق سے متعلق معاملے پر خصوصی توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کریں تاکہ والدین، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور اسکولوں کی انتظامیہ میں پائی جانے والی پریشانی کو ختم کیا جا سکے۔

عمران خان،عثمان بزدار آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،احسن اقبال

جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن پریس کانفرنس میں ابرار احمد خان نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کنٹونمنٹ حدود سے31 دسمبر تک تعلیمی اداروں کی بے دخلی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں حکومت ایک دن میں 33 بل ایوانوں سے منظور کرسکتی ہے تو کنٹونمنٹ ایکٹ میں بھی ترمیم کرے سکول سیل کئے جانا تعلیم دشمنی ہے، متبادل جگہ کی فراہمی تک کام کرنے دیا جائے کل 28 دسمبر کو نجی اسکولز مالکان کا پرنسپل کنونشن منعقد کیا جارہا ہے-

3 ماہ بعد آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں 10 ویں نمبر پر

ہ کنونشن میں ملک بھر سے تعلیمی ماہرین بھی شرکت کریں گے،کنونشن میں ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کی تاریخ کا اعلان کریں گے،74سال گزر گئے افسوس 74 فیصد شرح خواندگی بھی حاصل نہ کرسکے ملک بھر کے بیالیس کنٹونمنٹس بورڈ میں کوئی نئے تعلیمی ادارے نہیں بنائے گئے-

اسلام آباد سے سعودی عرب کیلئے اڑان بھرنے والی پروازحادثے سے بال بال بچ گئی

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!