fbpx

فل کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردیا ۔ عدالت نے سماعت کل صبح تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.
سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے فل کورٹ بنانے اور میرٹ پر دلال دیئے، معاملے کی بنیادی قانونی سوال ہے، ارکان کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلاء کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کی جاتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وکلاء کو موقع دیتے ہیں کل عدالت کو مطمئن کریں۔ عدالت کے سامنے سوال آرٹیکل 63 اے کے تحت ہدایات کا ہے، معاملہ کی بنیاد قانونی سوال ہے ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلاء نے اپنے دلائل کے حق میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ پرویز الہی کے وکیل نے کہا رولنگ آئین قانون کے بر خلاف ہے۔ فل کورٹ تشکیل نہ دینے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ پر حکومتی اتحادیوں کی فل کورٹ بنچ بنانے کی درخواست مسترد کر دی جبکہ حمزہ شہباز کے وکیل کی بھی مزید وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے کیس کی آج دوبارہ سماعت کی۔ دن بھر دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر کے رولنگ کیخلاف فل کورٹ بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا۔

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے فوری فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے محفوظ فیصلہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد سنایا گیا۔ عدالت نے حکومتی اتحاد کی فور فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردی اور قرار دیا کہ موجودہ تین رکنی بینچ ہی کیس کی سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کیلئے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، فل کورٹ بنانے کے معاملے پر فیصلہ آج ہوگا یا نہیں ، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ دلائل سن کر فیصلہ کریں گے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے وکلا کو میرٹ پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے کیس میں فریق بننے کی درخواست منطور کرلی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے وکیل میرٹ پر دلائل دیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، جسٹس منیب اختر کااستفسار کیا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟چیف جسٹس کے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے،اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہئے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں،ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولورائیز سیاسی ماحول بن جانا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے ،وکیل چودھری شجاعت صلاح الدین نے کہا کہ ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو، جسٹس منیب اختر کے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،

اس سے قبل آج سماعت کے آغاز پر سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں تمام بار کونسلز کی جانب سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

لطیف آفریدی نے کہا کہ کرائسس بہت زیادہ ہیں، سسٹم کو خطرہ ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست مقرر کی جائے اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔