fbpx

فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے،سپریم کورٹ

چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہیں؟ سی ایس ڈی کو بھی اب اوپن کمرشل ڈیپارٹمنٹل اسٹور بنا دیا گیا ہے

فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نےسیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیرتسلی بخش قراردے دی ،
اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دے دی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سینما، شادی ہال، اسکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اداروں کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو قانون کون سمجھائے گا؟ اداروں کیساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں، ادارے جن قوانین کا سہارا لیکر کمرشل سرگرمی کرتی ہے وہ غیرآئینی ہیں،کارساز میں سروس روڈ بھی بڑی بڑی دیواریں تعمیر کرکے اندر کر دی گئیں،کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، مارکی اور کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں،کالا پل کیساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں،کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کیلئے بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر دی ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہیں؟ سی ایس ڈی کو بھی اب اوپن کمرشل ڈیپارٹمنٹل اسٹور بنا دیا گیا ہے، گزری روڈ پر راتوں رات بلڈنگ کھڑی کر دی گئی، ہم ابھی سو کر نہیں اٹھے تھے کہ انھوں نے بلڈنگ کھڑی کر دی، چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آگے کا کیا پلان ہے ، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ تینوں سروسزکی کمیٹی بنادی ہے جو غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کرے گی،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک روایت بن جائیگا،چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکام نے زمین خریدی اور بیچ کر چلے گئے،پھر یہ زمین 10 ہاتھ آگے بکی آپ کیسے واپس لیں گے؟کیا کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہے؟اب وہاں گھر بن گئے ہیں جو10،10 کروڑ روپے کا ہے یہ پیسے کون دیگا؟ لاہور میں جائیں دیکھیں کتنے بڑے شادی ہالز اور پرشکوہ بلڈنگز بنا دی گئی ہیں، کنٹونمنٹ کی زمین پر شادی ہال کیسے بن سکتا ہے؟اٹارنی جنرل آپ سیکریٹری دفاع کو کہیں جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ درست نہیں رپورٹ میں لکھا ہے کہ بلڈنگز گرا دی ہیں جبکہ وہاں بلڈنگز کھڑی ہیں، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ موقع پر جاوں گا تصاویر بنا کر نئی رپورٹ مرتب کرونگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم یہ رپورٹ واپس لیتے ہیں،عدالت نے کہا کہ جامع رپورٹ داخل کریں کہ کنٹونمنٹ کی کون سی زمین کن مقاصد کیلیے ہے، قانون کیمطابق اسٹریٹجک لینڈ صرف دفاعی مقاصد کیلیے استعمال ہوگی، تفصیلی رپورٹ چار ہفتے میں جمع کرائیں،

سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو ریٹائرڈ جنرل ہیں آپ کو تو سب پتا ہوگا،سیکرٹری دفاع نے استدعا کی کہ کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، اسٹریٹجک مقاصد کی اصطلاح کا دائرہ کار وسیع ہے،کمرشل سرگرمیاں بھی ا سٹریٹجک ڈیفنس کے زمرے میں آتی ہیں، جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کنٹونمنٹ میں بازار کا قانون ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب ٹھیک ہے مگر وہاں چھاونی کدھر ہے؟وہاں تو سب گھر ہی گھر ہیں فیصل بیس پر اسکول، شادی ہال بھی بنے ہوئے ہیں،کوئی بھی شادی کا مہمان بن کر رن وے پر بھاگ رہا ہوگا،کہا جا رہا ہے کہ مسرور اور کورنگی ایئر بیسز بند کیے جا رہے ہیں،کہا گیا ایئر بیس بند کرکے وہاں کمرشل سرگرمی شروع کرینگے،کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے،حکومت زمین انہیں واپس کرے گی جن سےحاصل کی گئی ہو،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اداروں کو معمولی کاروبار کیلئے اپنے مقاصد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے،اداروں کو اپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور لاہور میں بھی کنٹونمنٹ کی زمین پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں،سمجھ نہیں آرہی وزارت دفاع کیسے ان سرگرمیوں کو برقرار رکھے گی،سیکرٹری دفاع نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کیلئے تینوں افواج کی مشترکہ کمیٹی بنا دی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اعلی فوجی افسران کو گھر دینا دفاعی مقاصد میں نہیں آتا،فوج ریاست کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا، کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے، راتوں رات گزری روڈ پر فوج نے بہت بڑی عمارت کھڑی کر دی ہے،ایک ریٹائرڈ میجر نے گلوبل مارکی کیلئے زمین کیسے لیز پر دے سکتا ہے؟ ریٹائرڈ میجر کا کیا اختیار ہے کہ دفاعی زمین لیز پر دے سکے، فوج نے ریٹائرڑد میجر کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،گلوبل مارکی سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں،اگرسینما،شادی ہال اور گھر بنانادفاعی سرگرمی ہے تو پھر دفاع کیا ہوگا؟ چند لاکھ میں فوجی افسروں نے زمین بیچی اب وہ گھر کروڑوں کے ہیں،جہاں چھوٹی سی جگہ دیکھتے ہیں وہاں اشتہار لگا دیتے ہیں،اتنی بڑی بڑی دیواریں بنانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فوجی سرگرمیوں کیلئے گیریژن اور رہائش کیلئے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں،سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کیلئے تھا اب وہاں ہر بندا جا رہا ہوتا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی، فوج کی تمام رولز اور قوانین کا آئین کے مطابق جائزہ لینگے، فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع سے 4ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی

@MumtaazAwan

کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

اکانومی ڈیڈ اسٹاک پر پہنچ چکی،ملک میں کالا پیسہ زیادہ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

آپ کورٹ روم سے چلے جائیں،سپریم کورٹ جماعت اسلامی رہنما پر برہم