fbpx

سپریم کورٹ کا فیصلہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

لاہور:سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی۔

 

’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دیدی، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہوں گےسپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا اور گورنر پنجاب کو حکم میں پابند کیا کہ ساڑھے 11 بجے تک پرویز الٰہی سے حلف لیں۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا کہنا تھاکہ کل صبح اپنا استفعیٰ گورنر پنجاب کو دوں گا۔

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے جس کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور چوہدری پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ پنجاب قرار پائے ہیں اور گورنر پنجاب کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے پرویز الہٰی سے حلف لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پرویزالٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چیف سیکریٹری پرویز الٰہی کا بطور وزیر اعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں اور حمزہ شہباز اور ان کے وزرا کا اختیار فوری طور پر ختم کیا جائے اور حمزہ شہباز اپنا دفتر فوری طور پر خالی کردیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی کہا ہے کہ گورنر آج رات ساڑھے 11 بجے پرویز الٰہی سے حلف لیں اور اگر گورنر پنجاب حلف نہیں لے سکتے تو صدر مملکت پرویز الٰہی سے حلف لیں۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حمزہ شہباز کی اب تک کی جانے والی تمام تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں اور 11 صفحات پر مشتمل اپنے مختصر حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو فوری فیصلے کی کاپی پہنچائیں اور عدالتی کے فیصلے پرعملدرآمد کیلیے اسے تمام متعلقہ اداروں کو فوری ارسال کیا جائے۔

‏چودھری پرویز الہٰی کی تقریب حلف برداری ایوانِ صدر میں رات 2 بجے ہوگی:ترجمان