fbpx

وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت