fbpx

سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ تحریر: محمد اختر

بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کا انتقال ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں پختہ یقین ہے کہ ہم سب قادر مطلق ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔مزید یہ کہ وہ نظریہ اور مزاحمت کا نام تھا۔ حریت رہنما مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک نہ سمجھوتہ کرنے والا مہم جو تھے۔ آج، انہوں نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔ آپ دنیا کے کئی نوجوانوں سے زیادہ بہادر تھا۔ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ گھر میں نظربندی میں گزارا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ سید علی شاہ گیلانی کی آواز کشمیریوں کی تحریک آزادی کی علامت تھی، وہ خود ساری زندگی آزادی کے نعرے لگاتے رہے، انہوں نے نوجوانوں کے خون کو گرمایا، بھارتی افواج کو للکارتے رہے۔سید علی شاہ گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انہوں نے نوجوان نسل کو آزادی اور جوش کا جو پیغام دیا ہے وہ کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں رہے گا۔ تحریک آزادی کی جو فصل آپ نے بوئی ہے وہ کشمیریوں کی آئندہ نسلوں کے لیے آزادی کا پھل ضرور لائے گی۔سید علی شاہ گیلانی بلند حوصلہ، عزم، آزادی سے محبت اور آزادی کی قدر کو سمجھنے والے انسان تھے۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بوڑھے ہیں،اُنکی آنکھوں میں ہمیشہ آزادی کی چمک دیکھی گئی۔وہ واقعی ایک تاریخی شخصیت تھے۔ 14 اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے ان کی قابل ذکر خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشانِ پاکستان” سے نوازا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فوج نے بارہا حراست میں لیا اور زندگی کا ایک طویل عرصہ نظر بند رکھا۔، لیکن پھر بھی بھارت کے یہ اوچھے ہتکھنڈ ے ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکے، ان کی سوچ کو محدود نہیں کر سکے، ان کے خیالات کو بھی قید نہیں کر سکے، اور نا ہی آزادی کے جذبہ کی سختی کو کم کر سکے۔ آج،سید علی شاہ گیلانی دم توڑ چُکے ہیں،مگر اُن کی وفات نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیا ہے۔سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی۔وہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کا مضبوط مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی طاقتور آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کا روشن چہرہ اور آزادی کی حقیقی آواز سمجھا جاتا تھا۔سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی میں صَرف کی۔ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے نہیں دیکھ سکے،مگر انہوں نے کشمیریوں کو آزادی کے حقیقی معنی سے آشناء کر دیا۔ان شاء اللہ! کشمیر آزاد ہو گا، سید علی شاہ گیلانی کا خواب پورا ہو گا۔ وہ اپنی زندگی میں کشمیر کی آزادی کو نہیں دیکھ سکے، لیکن جس ثابت قدمی سے کشمیری آزادیِ جدوجہد جاری ہے اِس یہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری یقینا جلد آزادی کی منزل ِ مقصود تک ضرور پہنچیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی زندگی بتاتی ہے کہکشمیری قیادت پر بھارتی مظالم عام کشمیریوں سے زیادہ ہیں مگر غیور کشمیری قیادت آج بھی اپنی زمین پر ثابت قدمی سے کھڑی ہے اور پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ اللہ رب العزت سید علی شاہ گیلانی ؒ کو دائمی امن عطا فرمائے،جنت میں ان کے درجات بلند کر ے اور کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے۔ (آمین)

@MAkhter_