ورلڈ ہیڈر ایڈ

نئے پاکستان کی پولیس پر پرانا سیاسی اثرو رسوخ کب ختم ہو گا ؟

پاکستان کے تمام صوبائی و وفاقی ادارے عوام عامہ کے مسائل کو حل کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں لیکن بیشتر اوقات یہ ادارے اور ان کے افسران اپنے فرائض منصبی سے لاپرواہ نظر آتے ہیں، اور یہ لا پرواہی عموما حکومتی اداروں میں سیاسی اثرو رسوخ کا نتیجہ ہوتی ہے کہ جس کا جس جگہ پر جتنا زور چلتا ہے وہ اپنا اور اپنوں کا کام نکالنے کیلئے لگا لیتا ہے
اور اگر سیاسی اثر و رسوخ کی بات پاکستان و پنجاب پولیس میں کی جائے تو آئے روز ایسے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں کہ فلاں نے طاقت کے بل بوتے پر اپنے رشتہ دار،عزیز،دوست احباب کو پاکستان پولیس کے قانون سے ہی استثنیٰ دلا دیا ،
ایسا ہی کیس ایک اوورسیز پاکستانی سید حیدر عباس کا ہے جو اپنے حلال کے پیسوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے پچھتا رہے ہیں کہ کاش یہ پیسہ انہوں نے لندن، مانچسٹر یا بریڈ فورڈ میں لگایا ہوتا تو آج انہیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا،
سید حیدرعباس کا آبائی علاقہ میرپور آزاد کشمیر ہے ،جہاں ان کے آباؤ اجداد کی کچھ پراپرٹی تھی جس کی مالیت 2 کروڑ روپے تھی، 2006 میں لندن جانے سے پہلے حیدرعباس نے میرپور والی پراپرٹی بیچ کر اس رقم سے راولپنڈی کے رہائشی شجاع اقبال راجہ کیساتھ مل کر گلشن اقبال نامی ہاؤسنگ پراپرٹی کی بنیاد رکھی اس کے بعد سید حیدر عباس لندن چلے گئے

Syed Haider Abbas

سید حیدر عباس کے لندن جانے کے بعد شجاع اقبال راجہ نے حیدر عباس سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور پراپرٹی میں ہونے والے کسی مالی فوائد و نقصانات سے آگاہ نہیں کیا ، اس کے بعد راجہ شجاع اقبال نے رقم واپسی کی غرض سے سید حیدر عباس کو 12 دسمبر 2017 کو 25، 25 لاکھ کے دو چیک اور 1 کروڑ 30 لاکھ کا ایک چیک ادا کیا جو کہ کل رقم ا کروڑ 95 لاکھ بنتی ہے اور شجاع اقبال راجہ کو اختیار دیا کہ کوئی بھی چیک کیش نہ ہونے کی صورت میں سائل کو اختیار ہو گا کہ وہ فوجداری و دیوانی کاروائی کر سکے گا

FIR Copy registered by Syed Haider Abbas

اس کے بعد مورخہ 10 فروری 2018 کو 25 لاکھ کا چیک باؤنس ہو گیا جس پر حیدر عباس نے تھانہ آر اے بازار راولپنڈی میں ایف آئی آر درج کرو دی ، اس بعد 14 جون 2018 کو بالترتیب 40 لاکھ اور ایک کروڑ 30 لاکھ کے چیک بھی باؤںس ہو گئے جن کی ایف آئی آرز سید حیدر عباس نے تھانہ آر اے بازارراولپنڈی میں جمع کروا دی ، لیکن بد قسمتی سے پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی کیونکہ سید حیدر عباس کے تمام پیسے ہڑپ کرنے والے ملزمان موجودہ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کے بھانجے ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث پولیس اور اس کے افسران بے بس ہیں

Raja Basharta with his nephews raja shuja and raja shahid

سید حیدر عباس نے اوورسیز کمیشن پنجاب سے لیکر پاکستان سیٹیزن پورٹل تک ہر جگہ اپنی آواز اٹھانے کی کوشش کی مگر اس آواز کو طاقت اور دولت کے زور سے دبا دیا گیا ، سی پی او راولپنڈی سے جب ملزمان کےخلاف کاروائی کا کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ راجہ بشارت ہمارے باس ہیں ہم ان کیخلاف آواز کیسے اٹھا سکتے ہیں
سید حیدر عباس نے ہر اس دفتر میں درخواست دی جہاں انہیں لگا کہ ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے کسی جگہ بھی ان کی داد رسی نہیں کی گئی بلکہ الٹا زلیل و رسوا کیا گیا ، لیکن سید حیدر عباس ابھی تک پرامید ہیں کہ ان کی آواز میڈیا کے زریعے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے گی اور کوئی حکومتی عہدیدار ان کی داد رسی کا سبب بنے گا ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.