fbpx

تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔