تیل کی قیمت مفت سے بھی کم، پھر بھی خریدنا کیوں ہے مشکل؟

تیل کی قیمت مفت سے بھی کم، پھر بھی خریدنا کیوں ہے مشکل؟

باغی ٹی وی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مفت سے بھی کم یعنی منفی تک گرچکی ہیں لیکن یہ تیل خریدا نہیں جاسکتا۔ پیر کے روز کینیڈین تیل کی قیمت منفی صفر اعشاریہ 15 ڈالر تک گرگئی جبکہ امریکن ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل ڈیڑھ ڈالر فی بیرل ہوگیا تھا لیکن یہ تیل خریدا نہیں جاسکے گا۔ اس کی وجہ بھی انتہائی دلچسپ سامنے آئی ہے۔

تیل کے حوالہ سے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ تیل لے سکتے ہیں ،جو بھی اس قیمت پر تیل لے گا اس کو ڈلیوری اٹھانی پڑے گی، جہاں سیل ہو رہا ہے وہاں جس کے پاس سٹوریج کی جگہ نہیں وہ تیل نہیں لے سکتے، جن کے پاس سٹوریج کی جگہ ہو وہ لے سکتے ہیں، اگر پاکستان کے پاس سٹوریج کی جگہ نہیں ہے تو تیل نہیں لے سکتا، کل سے یہ 22 ڈالر پر ہی آجائے گا، یہ ہر سال ایسا ہوتا ہے لیکن اس سال کرونا کی وجہ سے زیادہ خبروں میں آ گیا، یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کل یعنی ایک ہی روز میں ڈلیوری اٹھا سکتے ہیں

بی بی سی مڈل ایسٹ کے نمائندے سمیر ہاشمی نے ٹویٹر پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی مئی کے مہینے کیلئے ہوئی ہے۔ یعنی جو تیل خریدا جائے گا وہ مئی میں سپلائی کیا جائے گا لیکن تیل کی کھپت کم ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک یا کمپنی معاہدوں میں تجدید نہیں کر رہی۔ پیر کا روز وہ آخری دن تھا جو مئی میں تیل کی سپلائی کے نئے معاہدے یا معاہدوں کی تجدید کیلئے آخری دن تھا

سمیر ہاشمی کے مطابق جن ممالک نے مئی کے مہینے کیلئے تیل خریدنا تھا انہوں نے پہلے ہی آرڈر بک کرادیے ہیں اور کسی نے بھی معاہدوں کی تجدید نہیں کی جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں منفی میں چلی گئیں۔ اگر کوئی ملک یا ادارہ جون کے مہینے کیلئے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل خریدنے کا معاہدہ کرے گا تو اس کیلئے یہ قیمت 20 ڈالر فی بیرل ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے جس کے باعث امریکا میں خام تیل کی قیمت 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں کیوں کہ ان پر ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوجائے گی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ طلب میں کمی ہےجبکہ امریکی خام تیل کےذخائرکی اسٹوریج کپیسٹی کم پڑنےلگی۔

ادھر عالمی مارکیٹ سے متعلق تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہےکہ یہ پچاس سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کم قیمتیں ہوئی ہیں ،دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہےکہ 20 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات دنیا پربہت گہرے ہوں گے.ماہرین کے مطابق یہ تاریخ میں خام تیل کی پیداوار میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمی ہے۔ اوپیک پلس اوپیک کے رکن مالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں روس سرفہرست ہے

 

امریکی تیل پانی سے بھی ارزاں ، ملک میں پیٹرول کی قیمتیں کہاں تک گرسکتی ہیں،عوام نے امیدیں لگا لیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.