تاجروں کے ساتھ غیر امتیازی سلوک تاجر رہنماء بول پڑے

اسلام آباد : مر کزی تنظیم تا جران پاکستان کے مرکزی صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ کو ئٹہ میں پو لیس کی جانب سے تاجر رہنماﺅںپر پولیس کا بہیمانہ تشدد اور کو ئٹہ کے تا جر رہنماءعبدالرحیم کاکڑ، میر یاسین مینگل سید الطاف آغاکی گر فتاری کی مذ مت کر تے ہو ئے اسے ریاستی جبر قرار دیا ہے ،انھوں نے کہا ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ تاجر دشمنی میں اندھے ہو چکے ہیں کو ئٹہ کی تا جر برادری مطالبہ کر تی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ کو فوری طور پر تبادلہ کیا جا ئے ۔کاشف چوہدری نے کہا احتجاج تاجروں کاآئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے اس حق سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ، بلوچستان کے تاجر اکیلے نہیں پورے پاکستان کے تاجر انکی پشت پر کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔اس موقع پر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری سید عبدالقیوم اغا، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ اور دیگر تاجر رہنماءبھی مو جو د تھے ۔
محمد کاشف چوہدری نے کہا 2019کے ظالمانہ بجٹ اور تاجر برادری پر لگائے جا نے والے ٹیکسز کے خلاف آئندہ چند دنوں میں تاجر تنظیموں کامشاورتی اجلاس بلا کر فیصلہ کیا جا ئے گا کہ آئندہ تین ون ،ایک ہفتہ یا غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی جائے ،انھوں نے کہا حکومت بلوچستان فوری طور پر گرفتار تاجروں کو رہا کر ے اورسیل کئے گئے گئے 650 دکانوں کو فوری کھولنے اور تاجر دشمن ڈپٹی کمشنر کا فوری تبادلہ کرے اگر بلوچستان کے تاجروں کی مطالبات نہیں مانے تو احتجاج کا دائرہ پورے پاکستان تک وسیع کریں گے ، بلوچستان ہائی کورٹ کے ایسے کوئی احکامات نہیں ہیں جنہیںبنیاد بنا کر تاجروں کو بے روزگار اور دکانوں کو سیل کیا جا رہا ہے ، ہائی کورٹ کے فیصلہ کے آڑ میں تاجر دشمن اقدامات تشدد گرفتاریوں کیخلاف ملک بھر کی تا جر برادری سر اپا احتجاج ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.