fbpx

طلبہ شفقت محمود سے کیا چاہتے ہیں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

کورونا وباء موت تعلیمی نظام کو شدید متاثر کردیا. امتحانی نظام تو بالکل ہی مفلوج ہوکر رہ گیا. 2020 میں تو طلبہ کو پروموشن دے دی گئی لیکن موجودہ سال میں بھی طلبہ بضد ہیں کہ امتحانات نہ لئے جائیں. آل پاکستان سٹوڈنٹ محاذ نے مطالبہ رکھا تھا ’امتحانات کینسل کرکے ہمیں اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے.راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج ہوئے. اس دوران ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا. طلبہ رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا گیا. وزیر تعلیم شفقت محمود کے اعلان کے بعد کہ 10 جولائی کو ہر حال میں امتحانات ہوں گے, طلبہ میں غم و غصہ کی لہر میں اضافہ ہوگیا. طلبہ نے دوبارہ احتجاج کی کال دی, اس دوران پولیس کی بھی سیکیورٹی سخت تھی ,پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کا پہلے سے پلان ترتیب دے دیا تھا. اس دن بھی طلبہ ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد پہنچے, طلبہ کو گرفتار کیا گیا. طالبات بھی احتجاج کا حصہ بنیں. جن کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ ہمیں نا صحیح پڑھایا گیا ہے یہاں تک کہ ہمیں پڑھانے والوں کو زوم تک چلانا نہیں آتا تھا اس لئے یا تو وقت دیا جائے یا تو امتحانات منسوخ کئے جائیں لیکن اس احتجاج سے بھی طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا. اور تو اور دو دن سے انٹر کے امتحانات بھی جاری ہیں. مزمل شفیق طلبہ رہنماء ہیں اور ان دنوں ہونے والی سرگرمیوں میں کافی ایکٹو رہے. مزمل شفیق ہمارے دوست بھی ہیں اور ایک ہی صحافتی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں, میرا مزمل شفیق سے تعلق بھی اسی تنظیم کے ذریعے بنا. مزمل شفیق امتحانات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ‏راولپنڈی بورڈ کے زیر نگرانی قائم کردہ سنٹرز میں نہ تو طلباء کا Temperatureچیک کیا گیا نہ ہی Sanitizerلگایا جاتا اور امتحانی حال میں ہوا کے ناکافی وسائل کی وجہ سے طلباء پریشان۔

آج بھی مسلم ہائی اسکول میں ایک طالب علم کی حالت خراب ریسکیو 1122 نے اسپتال منتقل کیا۔اور یہ صرف راولپنڈی ہی نہیں دیگر شہروں کے سنٹرز سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں. مزمل شفیق نے بتایا کہ ہماری وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی میٹنگ ہوئی ہے. انہوں نے بتایا کہ ‏وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی, شفقت محمود صاحب نے کہا کہ طلباء کے تمام مسائل پر تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم کوئی اور پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات لینا مجبوری ہے,مزمل بتلاتے ہیں کہ میں نے درخواست کی کہ نصاب نا مکمل ہونے کے باوجود مشکل امتحانات بنانا نا انصافی ہے۔‏براہ کرم آپ احکامات جاری کریں کہ پیپر چیکنگ میں نرمی برتی جائے تا کہ طلباء امتحانات میں کامیاب ہو سکیں۔دیگر یہ بھی درخواست کی کہ یونیورسٹیز کے میرٹ کو کم کیا جائے تاکہ طلباء با آسانی داخلہ لے سکیں۔آخر میں سپلیمنٹری امتحانات کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جس پر نظرثانی کی جائے گی.

یاد رہے طلبہ کی حوالے سے اپوزیشن نے بھی آواز اٹھائی اور اس مسئلے کو اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا لیکن وفاقی حکومت امتحانات لینے پر بضد رہی اور اس وقت انٹر کے امتحانات جاری ہیں, یہی امید رکھتے ہیں کہ مولا کریم طلبہ کی مدد فرمائے, آمین