fbpx

تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

‏کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے اساتذہ کے ‏ساتھ ساتھ کلیکریکل سٹاف کی ضرورت بھی ناگزیر ہے استاذہ کو ادارے میں اپنی سیلری ایشو کروانے کے لئے، اپنی چھٹی کو منظور کروانے کے لئے، اپنے الاوئنسز کو لگوانے کے لئے اور بہت سارے کاموں کے لئے کلیریکل سٹاف کی ضرورت پڑتی ہے. ‏لیکن اب تک جتنا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ کلریکل سسٹم اتنا مضبوطی سے کرپشن میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف  کچھ نہیں کرسکتا ہے.

جب کوئی استاد اپنی اعلی ڈکری اور ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد اس ادارے میں خوشی خوشی سلیکٹ ہوکرآتا ہے تو اس کی خوشی اس وقت بھاپ بن کراڑجاتی ہے جب اسے اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے کلرک حضرات کی منت کرنی پڑتی ہیں اورزرا سا معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو جب تک آپ خرچہ پانی جو کہ رشوت کا ایک متبادل نام ہے نہیں دیتا اس کا کام نہیں ہوسکتا ہے.

وہ انسان جو ساری زندگی اس رشوت سسٹم سے دوررہا ہو اپنا ہرکام ایمانداری سے کرتا ہو کبھی رشوت کانام بھی نہ لیتا ہو اس کو بھی اس ادارے کو جوائن کرنے کے بعد اپنے جائز کاموں کروانے کے لئےکلرکوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور ایسا  بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایماندار کلرک ادارے میں موجود ہو لیکن  وہ بھی آپکا کام چاہ کر بھی بنا پیسے دیئے نہیں کرواسکتا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اتنے انٹرلنکڈ ہوتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہونے دیتےاگر آپ پیسے نہیں دیتے توجان بوجھ کرآپکی فائل یا آپکا بل ادھرادھرکردیتے ہیں یا آپکو مختلف جگہوں کے چکرلگواتے ہیں.

‏اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ جب ایک نیا استاد ادارے کو جوائن کرتا ہے تو اس کو جوائن کے بعد اپنی سیلری سٹارٹ کروانی ہوتی ہے جو کہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹرسٹاف کی زمہ داری ہوتی ہے اورحکومت نے ان کو رکھا بھی سٹوڈنٹس اوراساتذہ کے ان اکاؤنٹ ایشوزکو حل کرنے لئے ہی ہے لیکن یہ لوگ آپکو بل بنا کرنہیں دیں گے اورکہیں گے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ پریشان ہوں گے کہ بل کیسے بنے گا تو پہلے سے موجود لوگ آپکو بتائیں گے کہ آپ خرچے کے نام پہ پیسے دیں تو بل بھی بن جائے گا ورآپکی سیلری بھی سٹارٹ ہو جائے گی اگر آپ بہت ایماندار ہوں گے اور چاہیں گے کہ پیسے نہ دینے پڑیں تب یہ لوگ اس طرح سے حالات بنا دیتے ہیں کہ آپکی فائل اکاونٹ آفس تک نہ پہنچ سکے اور اگر پہنچ جائے تو اکاونٹ آفس والے آپکو بلاوجہ چکرلگوائیں گے اور آخرکارتنگ آکرانسان مجبورہوجاتا ہے اور اپنے جائز کام کے لئے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے پیسے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
‏کیونکہ ایک حدیث کے مطابق
‏”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”

‏اسی طرح طالب علموں کو جب بھی ایڈمیشن سے متلقعہ کوئی ایشو ہوتا ہے توطالب علم کو اسی طرح اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ آپکا ایڈمیشن فارم میں یہ غلطی ہے آپکو یونیورسٹی یا بورڈ میں جانا پڑے گا اورآپکا سال ضائع ہو سکتا ہے آپکا ایڈمیشن نہیں ہوگا یا ایڈمیشن کی تاریخ گزرگئی ہے اورطالب علم خاص طور وہ لوگ جو گاؤں یا قصبے سے تعلیمی حصول کے  لئےآتے ہیں ان سب سے گھبرا جاتے ہیں اوراس پوائنٹ پہ آکرکلرک حضرات اپنا داؤ کھیلتے ہیں اورہمدرد بن کر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی اماؤنٹ دے دیں ہم آپکا کام کروا دیں گے اورطالب علم بیچارے ان کو اپنا خیرخواہ مان کر پیسے دے دیتے ہیں اوراس طرح ان کی جیب بھر جاتی ہے اورتب جا کرطالب علموں کا کام ہوتا ہے اوروہ بیچارے سکون کا سانس لیتے ہیں اوروہ ایشو جو بنا پیسے کے حل ہوجانا چاہیے تھا ڈھیرسارے پیسوں کے عوض ہوتا ہے
‏اب یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگراس حد تک یہ لوگ تنگ کرتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ سب معلومات اعلی حکام اورسربراہوں کے علم میں ہونی چاہیے کیونکہ اساتذہ اورطالب علم کے مسائل کو حل کرنا انکی زمہ داری میں شامل ہے.

‏لیکن افسوس تو اسی بات پہ ہے کہ ادارے کے سربراہ اوراعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ خود بھی ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں ‏اوراگر کبھی ان تک ان لوگوں کی شکایات پہنچائی جائیں تو آگے سے ہمیں ہدایت کرتے ہیں کہ آپ کلرکوں کو پیسے دے کراپنا کام کروالیں اب اگراعلی حکام بھی اس مافیہ کا حصہ ہوں تو اساتذہ اورطالب علم اپنے مسائل کے حل کے لئے کونسے حکام بالا تک رسائی حاصل کریں ؟

‏ایک اوراہم بات خاص طورپہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں بہت اہمیت کی حامل ہے کہ والدین بہت بھروسہ کرکے اپنی بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اعلی تعلیم سے مستفید ہوسکیں جبکہ طالبات اپنے کچھ تعلیمی معاملات جنکا تعلق کلیریکل سٹاف سے ہوتا ہے انکو حل کروانے کے لئے کلرک حضرات کے پاس جانا پڑتا ہے جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انکے پرسنل نمبر، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکا پرسنل بائیو ڈیٹا آفس میں موجود ہونے کی وجہ سے اس تک انکی رسائی حاصل ہوتی ہے جسکا وہ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ غیراخلاقی فعل ہے وہ ادارہ جو تعلیم دینے کے لئے ہوتا ہے وہاں بہت ساری طالبات اس غلط روئیےکی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں.

‏مزید یہ کہ ‏اداروں کے بہتر تعلیمی نتائج کے لئے اساتذہ دن رات محنت ‏کرت ہیں ‏اور وہ طالب علم جو پورا سال کبھی بھی ادارے میں نہیں آتے ‏تو اصولی طورپہ تو ان کا داخلہ نہیں بھیجا جانا چاہئے تاکہ ان طالب علم کو اس بات کا احساس ہو کہ ادارے میں غیر حاضررہ کر آپ تعلیمی امتحان کا حصہ نہی بن سکتے اوراس مقصد کے لئے استاد ایسےطالب علموں کی نشاندہی کرکے ادارے کے سربراہ کے علم میں لاتا ہے جہاں سے یہ نام کلیریکل حضرات کو پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان طالب علموں کے ناموں کو ادارے سے خارج کردیا جائے اوراس بات سے استاد بھی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے سب طالب علموں کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن جب طالب علموں کی رولنمبر سلپ آتی ہیں ان طالب علموں کے نام بھی موجود ہوتے ہیںاقر یہ چیزاستاتذہ کے لئے یہ چیز انتہائی حیران کن ثابت ہوتی ہے کہ جن طالب علموں کے نام انہوں نے لسٹ سے خارج کرنے کے لئے دیے تھے وہ کس ترہاں شامل لسٹ ہوئے ۔

پھرتحقیق کرنے پرپتہ چلتا ہے کلرک نے رشوت لے کر‏ادارے کے استاتذہ کو دھوکے میں رکھا اور ایڈمیشن بجھیج دیے اب اگرآپ احتجاج کریں بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ طالب علم شامل لسٹ ہو چکا ہوتا ہے اورایگزام میں بھی حاضرہوچکا ہوتا ہے اس ترہاں امتحان دینے پر نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں آتا ہے اوراسکا خمیازہ اساتذہ اورادارہ کو بھگتنا پڑتا ہے اسکا ایک اورغلط نتیجہ اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ جو طالب علم پورا سال حاضررہ کرامتحان کا حصہ بنتے ہیں انکی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ ادارہ کی انتظامیہ کہ اس رویہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔

‏ان تمام معملات کومد نظررکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا کلریکل سٹاف یا تو خواتین کی صورت میں ہو یا پھران کے خیلاف سخت سے سخت ایکشن ہو تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرپشن جیسی امراض سے پاک کیا جا سکے.
‏پاکستان پائندہ باد

‏⁦‪@iEngrDani