fbpx

دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلےکہ اب طالبان افغانستان کے حقیقی حکمران ہیں،، افغان وزیرخارجہ

کابل :دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلےکہ اب طالبان افغانستان کے حکمران ہیں،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد کابل میں پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کے شکر گزار ہیں، افغانستان کی مدد کرنے والے ملکوں سے تعاون کریں گے، مہاجرین کی واپسی کیلئے بھی کوشش کریں گے۔

انہوں نے اپیل کی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں جبکہ ڈونرممالک سے بھی درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں۔

عالمی برادری کومخاطب ہوتے ہوئے افغان وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی نے کہاکہ سابقہ حکومت کے افغان عوام کے مفادمیں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے، وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں نامکمل پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے فنڈز بحال کیے جائیں۔

امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ مطلوبہ دستاویز رکھنے والے افغان شہریوں کوبیرون ملک سفرکی اجازت ہوگی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے ۔ان کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں دوسرے ممالک افغانستان پر دباؤ نہ ڈالیں، دباؤ سے افغانستان کو فائدہ ہوگا اور نہ ان ممالک کو جبکہ سب ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی کا کہنا تھاکہ طالبان نے امریکا سمیت غیرملکیوں کے کابل سے انخلا میں بھرپور تعاون کیا لیکن طالبان کی تعریف کے بجائے امریکا نے ہمارے قومی اثاثے منجمد کرکے مشکلات پیدا کیں، امریکا سمیت عالمی برادری کو معلوم ہوناچاہیےکہ انتشارکی پالیسی کارگر نہیں ہوگی۔

اس موقع پر انہوں نے پھراس پیغام کو دہرایا کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔وزیرخارجہ مولوی امیر متقی کا کہنا تھاکہ افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق منفی اور تعصب پرمبنی پالیسیوں کاخاتمہ ہوناچاہیے۔

جنیوا کانفرنس سے متعلق افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ جنیواعالمی کانفرنس میں مدد کا اعلان کرنے والے ملکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کی فراہم کردہ رقم افغان بینک سے مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ صحت، تعلیم اور شہروں میں انفراسٹرکچر میں مدد کی ضرورت ہے لہٰذا امید ہے کہ عالمی برادری افغانستان کو امداد سیاسی عزائم ومقاصد سے مشروط نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھاکہ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے ہیں، انہیں چاہیے مکمل کریں۔

افغان طالبان کی عبوری حکومت سے متعلق عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں افغانستان کے تمام گروہوں کو نمائندگی دی جائے گی لیکن ضروری نہیں وسیع قومی حکومت میں سابق حکومت کے وزراکوبھی شامل کیاجائے۔سابقہ حکومت کے افغان عوام کے مفادمیں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔

افغانستان میں غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ افغانستان میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کو کوئی خطرات درپیش نہیں، چین کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے افغان عوام کوروزگار ملے گا جبکہ تاجراور سرمایہ کار اپنے کاروبار شروع کریں، خود بھی منافع کمائیں اور عوام کو بھی فائدہ دیں۔

عبوری وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ بیرون ملک گئے افغان شہری باحفاظت اور وقار کے ساتھ واپس لوٹ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ افغانستان سے جانے یا آنے والوں کے پاس سفری دستاویزات ہونی چاہیئیں۔