fbpx

طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

کابل: طالبان نے افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان رہنما احمد اللہ وقاص کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے ہر قسم کے کھیل پر پابندی ہو گی جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغان خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر کھیل پر منفی اثرات پڑیں گے۔ خواتین کو اجازت نہ دینے کا معاملہ آئندہ اجلاس میں زیربحث آئے گا۔

دوسری جانب طالبان نے خواتین کو کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے انہوں نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔

طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!