fbpx

‏طالبان اور آئندہ کا لائحہ عمل تحریر: فاروق

طالبان ایک سوچ کا نام ہے اور اسی طرح امریکی مفادات بھی، گویا ایک سوچ ہار گئی یا یوں کہئیے کہ ایک سوچ جیت گئی۔ آخر کار امریکہ نے ایک دن تو جانا ہی تھا وجوہات کو اگر ایک طرف بھی رکھیں، امریکہ چلا گیا اور افغانستان میں طالبان بلا شبہ فاتح قرار پائے۔
اگر زندگی کے کسی بھی پہلو کو دیکھیں تو زیادہ تعریف اسی کھلاڑی کی ہوتی ہے جو winning shot لگاتا ہے یا جو گول کرتا ہے یا جو آخر میں کوئی امتحان پاس کرتا ہے، ٹیم ورک میں دوسرے قدرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مختصرا” کہہ سکتے ہیں کہ طالبان ناقابل تسخیر بن کر ابھرے ہیں۔
مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے کہ طالبان مستقبل میں دنیا کے بارے اپنا رویہ کیسے رکھ پاتے ہیں۔ شروع میں تو ہر نئی دلہن کی ہر بات اور ہر نخرہ بھلا لگتا ہے مگر وہی ساس بہو کے مسائل کے اثرات کچھ عرصہ بعد محسوس ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ابھی مغرب یا مغرب نواز گروہوں کو افغانستان کی جمہوریت، حقوق نسواُ، مذہبی رحجانات اور جزا سزا کے طریقہ کار کے متعلق بہت پریشانی لاحق ہے مگر خود پچھلے بیس برسوں میں تمام تر وسائل ہونے کہ باوجود ایسا نظام وضع نہیں کر پائے کہ طالبان کمزور رہتے اور عوام جدت پسند ہو جاتے۔

میری غرض کچھ ہٹ کر ہے، میں دیکھنا چاہوں گا کہ افغانستان میں طالبان کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے، طالبان پاکستان گریز قوتوں سے کتنا گریز کرتے ہیں، تحریک طالبان پاکستان سے کیا رویہ اپنایا جاتا ہے، ہندوستان کو کس حد تک اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے، پاکستان کی متعین شدہ سرحدوں کی کتنی پاسداری کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ، گویا پاکستان کے مفادات کا تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جا سکتا ہے ورنہ ہماری حالت عبداللہ کی شادی میں بیگانے جیسی ہو گی۔
دنیا میں بہت ساری تحاریک چلی ہیں اور کامیابی سے نتائج حاصل کر چکی ہیں، یعنی مقاصد مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر طالبان کا مقصد امریکہ کو شکست دینا تھا تو وہ حاصل ہو چکا، اگر افغان عوام کی نمائیندہ حکومت مقصد ہے تو اس کا موقع مل چکا ہے، اگر دنیا میں امن درکار ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی پاسداری چاہئیے اور مذہبی رواداری چاہئیے تو اس کا موقع بھی انہیں مل چکا ہے۔
مگر یہ سب اتنا آسان نہیں ہو گا۔ افغانستان کا مذہبی طبقہ، روشن خیال افغان، طالبان کا سیاسی ونگ اور جنگجو ونگ اور قبائلی معاشرہ ایک ایسی مسدس بناتے ہیں اور اس کے علاوہ اگر وہاں پر موجود فرقہ واریت، مختلف نسلوں اور بیرونی اثرات کو بھی مدنظر رکھیں تو طالبان کے لئیے uphill task ابھی باقی ہے اور مجھے خوف ہے کہ ایک مخصوص سوچ کا حامل گروہ اتنے ساروں محاذوں کو کیسے سنبھال پائے گا۔ میرا ملک کیسے بچ پائے گا کہ درآمد شدہ سوچ کا مقابلہ کر پائے گا۔
ہمیں ہر فیصلہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل ذمہ داری سے کرنے ہوں گے اور ذہن میں رکھنا ہو گا کہ طالبان کامیاب ہوئے ہیں، ہم نہیں، جنگ طالبان نے لڑی ہے پاکستان نے نہیں۔ اپنے مسائل خود افغانستان نے حل کرنے ہیں ہم نے نہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!