fbpx

طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے کابل پر کنٹرول کے بعد مودی سرکار کی ہوائیاں اڑ رہی تھیں اب مودی سرکار مزید خوف کا شکار ہے

بھارتی وزیراعظم مودی نے خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان، وزیر دفاع ،داخلہ سمیت اہم حکام سے میٹنگ کی تھی جس میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی گئی تھی اس اجلاس میں مودی سرکار کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کشمیر کی سیکورٹی مزید سخت کریں اور حالات پر گہری نظر رکھیں

اب اطلاعات ہیں کہ امریکہ کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ اب طالبان کو کشمیر آنے سے کیسے روکنا ہے کیونکہ طالبان کی جانب سے اگرچہ کہا جا رہا ہے کہیں مداخلت نہیں کریں گے لیکن طالبان کشمیر آ بھی سکتے ہیں اس ضمن میں ایک اور اہم اجلاس ہوا جس میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے آیندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا، اس اجلاس میں بتایا گیا کہ کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیاں تیز ہو گئی ہیں، مجاہدین کے حوصلے افغانستان پر کنٹرول کے بعد بلند ہوئے ہیں جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں عسکری کاروائیوں میں تیزی آئی پہے

بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کم از کم چھ نئے گروپس سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنے ٹارگٹ تیار کئے ہیں اور ان گروپس نے مختلف مقامات پر کاروائیاں کی ہیں،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے مطابق کم از کم تیس سے زائد مجاہدین کشمیر میں اس وقت سرگرم ہیں جنہوں نے نئے گروپ تشکیل دیئے اور انکا طالبان سے رابطے کا بھی امکان ہو سکتا ہے، اس ساری صورتحال پر کڑی نظر ہے

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے سینئر افسر نے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں میں تیزی آئی،بھارتی سیکورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا وہیں بی جے پی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا،

اجلاس میں پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی گئی اور ماضی کی طرح ایک بار پھر یہ کہا گیا کہ کنٹرول لائن کی دوسری جانب پاکستان سائیڈ پر مجاہدین کے لانچنگ پیڈ متحرک ہو چکے ہیں جو کسی بھی وقت مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو سکتے ہیں،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کشمیری افغان طالبان کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور افغان طالبان کو مبارکباد دے رہے ہیں،

اجلاس میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں کم از کم ساٹھ سے زائد نوجوان کچھ ماہ میں اپنے گھروں سے لاپتہ ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے وہ مجاہدین کے ساتھ مل گئے ہوں اس ضمن میں بھی بھارتی سیکورٹی اداروں کو چوکنا رہنا ہو گا،لاپتہ وانے والے کشمیری نوجوانوں کی تلاش کی گئی لیکن کہیں سے نہیں ملے،

دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق مودی اور اسکی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان حکومت بنا لیتے ہیں تو انکے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کئے جائیں گے تا ہم افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا، اس ضمن میں مودی کو اسکے مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کو دیکھ کر پھر ہی بھارت کوئی فیصلہ کرے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار ضرورت پڑنے پر طالبان حکومت سے رابطہ کرے گی اور ممکنہ طور پر یہ رابطہ کسی دوسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، مودی کی خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں تا کہ بھارت کو کوئی خطرہ نہ ہو ،دوسری جانب مودی کو اسکے ایڈوائیزر محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں،

واضح رہے کہ کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں عالمی دنیا اور افغان قوم کو اہم پیغام دیے، کابل میں حالات زندگی معمول پر ہیں، تعلیمی ادارے، بازار کھلے ہیں، خواتین بھی دفاتر میں کام کر رہی ہیں، طالبان میں اس بار بدلاؤ آیا ہے اور خواتین کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، طالبان کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی،کابل سے نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے شہریوں سے گزشتہ روز اسلحہ جمع کیا اور کہا کہ اب حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، طالبان نے ریڈیو ،ٹی وی کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کا بھی دورہ کیا اور ملازمین سے بات چیت کی،

افغان طالبان کی جانب سے شہریوں کو مسلسل پیغامات دیئے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے کام معمول کے مطابق جاری رکھیں، دوسری جانب افغان شہریوں کی جانب سے بھی طالبان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، افغان شہری طالبان کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر رہے ہیں

طالبان کی حمایت میں بولنے پر بھارت میں دو مقدمے درج

حامد کرزئی،عبداللہ عبداللہ سے طالبان رہنماؤں کی ملاقات، بڑی یقین دہانی کروا دی

طالبان رہنما متحرک، حامد کرزئی کے بعد گلبدین حکمت یار سے ملاقات

امریکا اور اس کے حواریوں کی طرح بھارت بھی کشمیر سے بھاگے گا، سید علی گیلانی

افغان طالبان کا خواتین سمیت سب شہریوں کو اپنی ملازمتوں پر جانے کی ہدایت

ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

مودی افغان طالبان کے سامنے "جھکنے” کو تیار

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!