fbpx

طالبان کو ڈکٹیشن دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے ، مولانا سمیع الحق شہید کانفرنس سے مقررین کا خطاب

طالبان کو ڈکٹیشن دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے ، مولانا سمیع الحق شہید کانفرنس سے مقررین کا خطاب

شہید ناموس رسالت حضرت مولانا سمیع الحق کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے عظیم الشان کانفرنس آج پشاور میں منعقد ہوئی جس کی صدارات جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا حامد الحق حقانی نے کی جب کہ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمدتقی عثمانی مہمان خصوصی تھے ۔ اس عظیم کانفرنس سے دینی سیاسی سماجی قائدین اورمختلف سیاسی جماعتوں ِسے تعلق رکھنے والے قومی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق کی ملی ،سیاسی ،دینی علمی تصنیفی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مولانا سمیع الحق کے دینی و سیاسی وژن کے مطابق اسلام کی سربلندی ،شریعت کے نفاذ ،استحکام و دفاع پاکستان دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت اور استحصالی سامراجی قوتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مقررین نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اورنظریہ پاکستان کی حفاظت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ جمعیت علماء اسلام مولانا حامد الحق حقانی کی قیادت میں متحد اور متحرک ہے اوراس ملک میں موجودہ ظالمانہ ،غیرمنصفانہ اور غیر شرعی نظام کو شکست دے کر اسلامی نظام کا پرچم لہرانے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور استحکام پاکستان اور نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جمعیت ہر اول دستے اور جراتمندانہ قیادت کا کردار ادا کرے گی۔ کانفرنس میں افغان طالبان کی جدوجہد اوراستقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی برادری، مسلم ممالک کے سربراہوں اور خطے کے برادر ممالک اورپاکستانی اداروں اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ بلاتاخیر افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں۔ مقررین نے واضح کیا کہ طالبان کو ڈکٹیشن دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی بجائے انہیں اپنے نظام حکومت کے سلسلہ میں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا بین الاقوامی حق کو تسلیم کیا جائے ،

اس موقع پر حضرت مولانا سمیع الحق شہید کی حیات و خدمات پر ماہنامہ ”الحق” کی خصوصی اشاعت جو چار جلدوں پر مشتمل ہے کی تقریب رونمائی بھی ہوئی ۔کانفرنس سے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ،مولانا انوار الحق ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، مولانا محمد احمد لدھیانوی صاحب ، مولانا محمد حنیف جالندھری ،مولانا فضل الرحیم مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، پاکستان علما کونسل کے علامہ طاہر اشرفی، مولانا خلیل احمد مخلص، مولانا پیر مختار الدین شاہ ،مولانا فضل الرحمن خلیل ، سینیٹر طلحہ محمود،شاجی گل آفریدی، ارباب عاصم خان ، مولانا عبدالرؤف فاروقی ، مولانا محمد خان شیرانی ، جنرل ضیاء الحق شہید کے صاحبزادے محمد انوار الحق، عبداللہ حمید گل، مولانا یوسف شاہ ، مولانا عتیق الرحمن راولپنڈی ،مولانا گل نصیب خان ،مولانا شجا ع الملک ،حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن ،،مولانا عبدالواحد، اور جمعیت علمائے اسلا م کے چاروں صوبوں کے امراء نے شرکت اور خطاب کیا ۔کانفرنس میں متفقہ طورپر اعلامیہ پیش کیا گیا جو درج ذیل ہے

(اعلامیہ )مولانا سمیع الحق شہید خدمات قومی کانفرنس
آج بمورخہ 2 نومبر 2021 کے یہ عظیم الشان کانفرنس اور اس میں شامل مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین وکارکنان سماجی تنظیموں کے رہنما ، علما و مشائخ اور عوام الناس کا یہ نمائندہ اجتماع متفقہ طور پر یہ اعلامیہ پیش کرتا ہے :
1۔ اجتماع مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ کی علمی ،دینی ،سیاسی ،سماجی ،قومی ،ملی اور پارلیمانی خدمات کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے ملک میں امن وامان اور مسلکی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کیا اور تصنیف و تالیف سے لے کر اس وطن عزیز پاکستان کے آئینی اور دستوری خدمات تک کردار ادا کیا، دین اسلام اور پاکستان کے لیے ان کے لازوال خدمات ہمیشہ کے لیے سنہرے الفاظ میں یاد رکھے جائیں گے ۔
2۔ یہ کانفرنس پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ جیسے عظیم محب وطن اور عالمی رہنما کو تین سال قبل راولپنڈی میں انتہائی مظلومانہ انداز میں شہید کر دیا گیا تھا ۔تین سال گزرنے کے باوجود آج تک حضرت مولانا شہید اور دیگر مظلوم کے قاتلوں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاسکا جو قابل صد افسوس و باعث تشویش ہے۔ اسلام او رپاکستان دشمن قوتوں نے حضرت مولانا کو شہید کرکے دراصل پاکستان کے دو قومی نظریے پر وار کیا ہے ۔ حضرت مولانا شہید نہ صرف پاکستان کے نظریاتی بلکہ جغرافیائی سرحدوں کے بھی ایک عظیم جرنیل اور سپوت تھے۔ان کے خلاف حکومت نے کیا کیا ؟
-3 امارات اسلامیہ افغانستان کی قانونی وشرعی حکومت کو فی الفور اقوام متحدہ ،پاکستان اوردیگر ممالک فوری طور پر سیاسی اور سفارتکاری کے اصولوں کے مطابق تسلیم کریں کیونکہ تحریک طالبان نے افغانستان میں پرامن طورپر اقتدار حاصل کیا ہے اور انہوں نے بغیر خون بہائے اورا پنے دشمنوں کو معاف کرکے ”فتح مکہ ” کی یاد دلا دی ہے۔ اگر عالمی دنیا نے افغانستان کو اس بار بھی تنہا چھوڑ دیا تواس کے اثرات پاکستان اورخطہ بھر میں بہت نقصان دہ ہوں گے۔
4۔ کشمیر اور تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور مجاہد علی گیلانی کی میت کیساتھ ہندوستانی فوج کی بزدلانہ بے حرمتی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے ۔نیز ہندوستان میں مسلمانوں پر جاری حالیہ تشدد اور بے پناہ ظلم و ستم کے مسلسل واقعات اور مساجد پر حملوں کے واقعات کو تشویش کے نظر سے دیکھتا ہے۔۔
5۔ امریکہ تحریک طالبان سے قطر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرائے تاکہ عالمی دنیا افغانستان میں انسانی بنیادوں پر فوری مدد کو ممکن بنائے ۔
6۔ یہ نمائندہ اجتماع ملک میں جاری مہنگائی اور بیروزگاری پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ غریب عوام کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں کیونکہ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے ۔
7۔ یہ نمائندہ اجتماع امت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشمکش اور رسہ کشی پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام سیاسی قائدین کے ساتھ تصادم کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرے اور عوامی مسائل پر توجہ دے ۔
8 یہ نمائندہ اجتماع اس بات کا حکومت پاکستان، عالم اسلام اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ طالبان کی قانونی حکومت کو باقاعدگی کے ساتھ سیاسی و سفارتی طورپر منظور کیا جائے جس سے اس خطے میں امن و سلامتی ، معاشی وتجارتی سطح پر نئے دور کا آغاز ہوگا ۔
9 ملک میں تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے حکومت کو چاہیے کہ فرانس سفیر اوردیگر گستاخی کے مرتکب ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات پر نظرثانی کرے۔
10 یہ نمائندہ اجتماع ،حکومت پاکستان اور تمام اسلامی اور مغربی دنیا سے امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کو فی الفور تسلیم کرے اور اُن پر معاشی پابندیوں کو ختم کیا جائے ۔ افغان عوام کو انسانی بنیادوں پر معاشی امداد دی جائے۔