fbpx

‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔