ورلڈ ہیڈر ایڈ

طالبان سے کب ملاقات طے تھی؟ وزیراعظم نے خود ہی بتا دیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگرافغان الیکشن میں طالبان نےحصہ نہ لیا تویہ بڑی بدقسمتی ہوگی،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک کرنے ہیں جب تک امن نہ ہو معاشی حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے، پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، ہمسایوں سے تعلقات بہتر کریں یہ ہماری خواہش تھی، افغانستان سے اچھی بات چیت ہوئی، تعلقات بہتر کیے، مذکرات میں رکاوٹ آنا بدقسمتی ہے، ہم پورا زور لگائیں گے کہ مذاکرات ہوں اور امن ہو.

وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ ڈیل ہونے کے بعد میں نے طالبان سے ملنا تھا، یہ بات فائنل تھی اب بھی کوشش کریں گے کہ مذاکرات آگے چلیں، پیرکوامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے ساتھ میری ملاقات ہوگی،

موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،وزیراعظم

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کابل میں حملے کے بعد افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے حوالے سے چند ہفتے  قبل ہی باغی ٹی وی نے مذاکرات ناکام ہونے کی پشین گوئی کردی تھی اور بالآخر پھر وہی ہوا

دوحہ مذاکرات ناکام ، افغان طالبان کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا- امریکی صدر سچ بول گئے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ طالبان رہنماؤں اورافغان صدر کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں، جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان رہنماؤں کیساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جس کو منسوخ کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے غلط بیعانہ بنانے کیلیے افغان طالبان نے کابل حملے کا اعتراف کیا جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد کو ہلاک کردیا۔

وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ میں فوری طور پر طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کو منسوخ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا طالبان اپنی مذاکرات کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلیے اتنے سارے لوگوں کو مار ڈالیں گے؟ انہوں نے بہت برا کیا۔

مذاکرات کی منسوخی، طالبان نے بھی اعلان کردیا، کہا اب امریکا کا ہو گا جانی و مالی نقصان

دوسری طرف امریکی صدر نے دعوی کیا کہ افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان اب تک کی بات چیت اچھی رہی ہے۔ اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا تھا کہ قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کے بعد طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات منسوخ کرتا ہے تو اس کا زیادہ نقصان اسے ہی ہوگا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کی جان اور مال کا ہوگا۔ طالبان نے گزشتہ 18 سال کی جدوجہد میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، وہ کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ اس ہدف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔

 

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی معطلی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مخلصانہ طور پر مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور بھی دیا ہے کہ صبر و تحمل اور مخلصانہ طریقہ سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان حالیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل سیاسی ہے۔ تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی مزی پر آکر افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.