fbpx

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

اسلام آباد:پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں شروع ہورہےہیں ۔گزشتہ ماہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر نے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ذرائع کے مطابق کل سے شروع ہونے والا مذاکراتی اجلاس 25 مئی تک ختم ہو جائے گا۔یہ بھی کہا جارہاہے ہے کہ ان مذاکرات میں آئی ئی ایم ایف کی طرف سے زیادہ زور اس بات پرہوگا کہ زیادہ سے زیادہ ریونیواکٹھا کیا جائے،اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کے ذریعے دی گئی غیر فنڈ شدہ سبسڈی کو ختم کرنا بھی کل کے مذاکرات کے مرکزی نقاط میں سے ہیں

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مئی کے پہلے پندرہ دن میں سبسڈی کی رقم تقریباً 55 ارب روپے ہے۔دوسرے پندرہ دن میں یہ تقریباً 70 ارب روپے ہو جائے گا۔آئی ایم ایف مالی سال 23 کے لیے محصولات کی وصولی بڑھانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

 

 

بین الاقوامی معاشی اعداد و شمار رکھنے والے ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر عمل کرنا مشکل رہا ہے۔ سیاسی حالات درپیش ہوں تو مشکل فیصلے لینے میں تاخیر کرنی پڑتی ہے۔

دوسری طرف سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ حکومت کو پیٹرولیم پر 350 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نےقیمت بڑھانے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت دس روپے کم کردی،

سابق وزیرخزانہ کاکہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دُگنی ہوچکی ہیں، اب ملکی تاریخ میں 5600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔