fbpx

تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

بھٹی نے کامیابیوں کے سفر کا آغاز صحافت سے کیا اتفاق سے ایک بہت ہی آچھے ٹی وی چینل کے ساتھ سیٹ ہو گیا۔

ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد محترم کا انٹرویو کیا جائے۔ چنانچہ بھٹی اپنے استاد محترم کے گھر پونچ گیا۔ابتدائی سلام دعا کے بعد بھٹی نے انٹرویو لینا شروع کیا۔
بھئی اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران بھٹی نے اپنے استاد محترم سے پوچھا سر ایک بار آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اب جب کہہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

استاد محترم مسکرائے اور سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہو ؟
بھٹی نے کہا جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں استاد محترم نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے؟
بھٹی نے سوچا کہ شاید استاد محترم میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بہر حال بھٹی نے بتایا میری والدہ محترمہ وفات پا چکی ہیں والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔
تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

استاد محترم نے مسکراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا تم اپنے والد محترم سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟
اب بھٹی کو غصہ بھی آرہا تھا اور اور بولا جی میں والد محترم سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں استاد محترم نے پوچھا یاد کرو پچھلی بار تم اپنے والد سے کب ملے تھے؟
بھٹی نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو جان سے ملا تھا۔
استاد محترم نے کہا پھر تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے ؟ بتاو لاسٹ ٹائم کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟

اب تو بھٹی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد محترم کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں۔

بھٹی نے ایک لمبی آہ بھری اور بولا شاید دو سال ہونے والے ہیں جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے استاد محترم نے ایک اور سوال ڈالتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟ بھٹی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

استاد محترم نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟
اب تو بھٹی بہت پریشان ہو گیا اور میز پر رکھے ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد محترم نے پوچھا کبھی تم نے والد صاحب کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟
کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں؟
کبھی تم نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ تمھاری والد محترمہ کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟
اب تو بھٹی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے استاد محترم نے بھٹی کا ہاتھ تھپ تھپایہ اور کہا کہ بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

سنو ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے والد صاحب سے ہے مگر connection یا تعلق والد صاحب سے۔نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہیں گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔

بلکل ٹھیک ایسے جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے، بوسہ کرتی ہے بغیر مانگے دودھ پلا دیتی ہے بچے کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی ہے کہہ کہیں گر نہ جائے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔

تو بیٹا آپ کے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact ہے مگر آپ کے درمیان connection نہیں ہے۔

بھٹی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

بد قسمتی سے آج ہمارے وطن عزیز میں یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج ٹویٹر ، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہمارے پانچ ہزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ ہم صبح سویرے بزاروں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں۔

حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی ہم تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

@RajaArshad56