fbpx

تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@