fbpx

تمباکو نوشی منہ کا کینسر، نوٹ کے باوجود بھی سیگریٹ نوشی نہ رک سکی۔ تحریر: ملک رمضان اسراء

یقینا ہر خاص و عام اس بات سے تو کم از کم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ اور سگریٹ پینے سے منہ کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگوں کیلئے سیگریٹ کے ڈبہ پر "تمباکو نوشی منہ کا کینسر” جیسا نوٹ لکھا گیا وہی غیر تعلیم یافتہ کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے منہ پر کینسر کی ایک عدد تصویر ظاہر کی گئی لیکن پھر بھی سیگریٹ نوشی کیوں نہ رکی؟ اسی وجہ کو جاننے کیلئے میں نے ایک سگریٹ نوش محمد خان سے بات کی جو پچھلے تیس سالوں سے سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں اور ان کے مطابق وہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم دو عدد سگریٹ پاکٹ پی جاتے ہیں۔ محمد خان کی عمر اس وقت پچاس سے اوپر ہے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریبا بیس سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کرنا شروع کی تھی اور ابتدا میں تو ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پی لیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ عادت مجبوری بن گئی اور حالت ایسی ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں نہ اڑاوں تو ذہنی طور پر چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہوں حالانکہ مجھے بہت زیادہ کھانسی آتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود بھی میں اپنی اس بری عادت سے جان نہیں چھڑا پارہا۔ جب میں نے محمد خان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش نہیں کی تو انہوں نے جواب دیا کئی کئی ماہ تک سگریٹ کو چھوا تک نہیں اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے سمیت جسم میں بہت بہتر تبدیلی محسوس ہوئی لیکن پھر مجھے پیٹ میں گیس اور اس طرح کی شکایت ہوئی تو میں نے ایک دوست سے سگریٹ مانگی اسے پیتے ہی آرام آگیا اب میرا وہم تھا یا کچھ اور لیکن مجھے اسی وقت آرام آگیا اور سب سے بڑا مسئلہ مجھے ذہنی طور پر سکون تو محسوس ہوا مگر چچڑا پن بڑھ گیا جسکی وجہ سے گھر میں بات بات پر بچوں کے ساتھ غصہ آجانا لہذا سوچا بس خیر ہے زندگی جب تک ہے تب تک ہی جینا ہے لیکن میری وجہ سے باقی گھر والوں کا سکون خراب نہ ہو۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ سگریٹ ترک کردوں مگر یہ بری عادت چھوٹنے کا نام نہیں لیتی لہذا میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جوانی کے جوش میں دیکھا دیکھی میں کسی بھی بری عادت میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ابتدا میں تو آپ کا یہ شوق ہوگا مگر پھر ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔

اسٹاپ سموکنگ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق "سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ روز بروز اور ہر ہفتہ بعد، آپ کے جسم اور دماغ میں اچھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آپ کی جسمانی حالت بہتر اور بحال ہوجاتی ہے، آپ بہتر نظر آنے لگتے ہیں، آپ خود کو زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ بارہ گھنٹے سگریٹ ترک کرتے ہیں تو آپ کا جسم سگریٹ میں پائے جانے والے کاربن مونو آکسائڈ کو جسم سے نکال دیتا ہے۔ سطح معمول پر آ جاتی ہے اور آپ کی آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ ایک پورا دن مطلب چوبیس گھنٹے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر گرتا ہے آپ کے دوران خون میں بہتری آ جاتی ہے۔ اس طرح آپ سگریٹ نوشی کے باعث اپنے ہائی بلڈ پریشر، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے کو کم کر دیتے ہیں۔

ایک ماہ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے جیسے ہی آپ کے پھیپھڑے ٹھیک طور سے کام کرنے لگتے ہیں تو آپ کو کھانسی اور سانس کی دشواری میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ کو ورزش اور کام کرنا بھی آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ نو ماہ سگریٹ سے دور رہتے ہیں تو اس وقت تک آپ کے پھیپھڑے کافی حد تک صحتیاب ہوچکے ہوں گے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندر سیلیا ( باریک بالوں کی مانند ریشہ) سگریٹ کے دھویں کے مضر اثرات سے مکمل طورپر صحتیاب ہو چکا ہوگا اور جب آپ کو سگریٹ چھوڑے ہوئے ایک سال ہو جائے گا تو آپ کو کارونری ہارٹ ڈیزیز (دل کی بیماریوں) کا خطرہ نصف ہو جائے گا۔ جس کی مزید کمی ہونا جاری رہے گی۔ جبکہ پانچ سال سگریٹ نوشی نہ کرنے سے آپ کی آرٹیریز اور خون کی شریانیں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ مکمل طور سے کھلنے لگتی ہیں۔ اس طرح آپ، اپنے فالج اور جماد خون کے خطرے کو، کم کر دیتے ہیں اور دس سال کی عمر کے بعد آپ کے پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات نصف رہ جاتے ہیں اور منہ، گلے یا لبلبے کے کینسر کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پندرہ سال بعد آپ کے دل کی بیماری یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ اور ٹھیک بیس سال کی پابندی کے بعد تمباکو نوشی سے متعلقہ وجوہات جیسے پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر سے مرنے کا خطرہ اب اتنا ہی کم ہوتا ہے، جیسے کسی نے اپنی زندگی میں کبھی سگریٹ پی ہی نہ ہو۔