fbpx

تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان تحریر: حمزہ بن شکیل

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک ارب سے زائد ہو چکی ہے یعنی ہر پانچواں فرد اس بری لت میں مبتلا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ دن بدن تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے کوئی حکومتی حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔

نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

تمباکو نوشی سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے اکثر افراد گلے اور منہ کے سرطان سمیت سانس کی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے اور اگر مستقبل میں بھی یہی رجحان جاری رہا، تو 2030ء میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

ہمیں اس بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے میڈیا کے ذریعے عوام الناس اور نوجوان نسل میں آگاہی مہم، خود اعتمادی کے لئے کونسلنگ سیشن اور دیگر اقدامات اٹھانے پڑیں گے تا کے اس لعنت سے خود کو اور اپنے پیاروں کو دور رکھ سکیں۔ اس کے لئے جہاں حکومتی لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں خود بھی انفرادی اور اجتمائی طور پر ایسے قدم اٹھانے ہوں گے جس سے ہمارا معاشرہ محفوظ اور صحت مند رہ سکے۔