fbpx

‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات تحریر: یاسر اقبال خان

تمباکو نوشی کیا ہے:

ہر زندہ انسان کے ساتھ اس کی اچھی صحت ایک عظیم نعمت ہے اگر کسی شخص کے پاس صحت نہیں تو خواہ اس کے ساتھ دولت کے انبار بھی موجود ہو اس کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں ہو تو اس کی کوئی اہمت نہیں۔ پھر یہ سب اس شخص کیلئے بےکار ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود لوگ تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں جس سے متعلق لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی انسان کیلئے ذہنی و جسمانی طور پر مفید نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دور جدید میں نوجوان نسل لڑکے اور لڑکیاں شروع میں تمباکو نوشی کا استعمال فیشن کے طور پر کرتے ہیں جب یہ نوجوان نسل خاص کر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بطور فیشن شروع کردیتے ہیں تو پھر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس تمباکو نوشی کے نشے کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ پھر ان کیلئے تمباکو نوشی کے نشے سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک تمباکو نوشی کے نشے کے ساتھ ان کی زندگیاں گزر جاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے نشے کے انسانی صحت پر بہت مضر اثرات ہیں تمباکو نوشی کے نشے کے عادی لوگ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کا مطلب تمباکو سونگھنا مثلا سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ وغیرہ کے ناموں سے مختلف طریقے ہیں جس سے تمباکو سونگھنا جاتا ہے اور تمباکو کو کھاناجیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ جیسے طریقوں کا استعمال کرکے۔ تمباکو نوشی کرنے کے جتنے بھی طریقے ہیں یہ تمام عادات انتہائی خطرناک ہیں اور صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ایک بہت افسوس اور فکر مند ہونے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک میں سگریٹ و تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں کی شرح تیزی سے زیادہ ہو رہی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کے اس اضافے کا بڑا سبب ان تمام ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

سگریٹ نوشی کی وباء عالمی صحت کو لاحق خطرات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی جان کی بازی ہار کر مر جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے مرنے والے افراد میں 6 لاکھ سے زیادہ اموات ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن ان کے اردگرد ماحول میں موجود تمباکو نوشی کے دھوئیں کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تمباکو نوشی کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے:

تمباکو کے اندر موجود نکوٹین ایک کیمکل ہوتا جو سگریٹ پیتے وقت انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ نکوٹین انسانی دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کیمکل کی وجہ سے انسان کو تمباکو کے نشے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ انسانی جسم میں یہ کیمیکل مصنوعی خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے اعصاب پر تمباکو کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات ہونے کے باوجود پھر اس نشے کو ترک کرنا اس فرد کیلئے بہت مشکل ہوجاتا ہے اور فیشن کے نام پر تمباکو نوشی شروع کرنے والا نوجوان لڑکا یا لڑکی اس مضر صحت نشے میں پھنس جاتا ہے۔ یہ نشہ بہت آہستگی سے جسم کے مختلف اعضاء کو ایسے نقصانات پہنچانا شروع کر دیتی ہے کہ تمباکو نوشی کا عادی ایک مرد یا عورت کو کئی برس گزرنے کے بعد اس کے جسم کے اندر ہوتے ہوئے نقصانات واضح نہیں ہو پاتے لیکن جب اسکو نقصانات واضح ہوجاتے ہیں تو تب اس انسان کا جسم تمباکو کے نشے کا مجموعی طورپر عادی ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کو اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر مضر اثرات:

تمباکو کے دھوئیں میں تقریباً 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان ده ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بہت ساری بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ان بیماریوں میں کچھ یہ ہیں:

1) تمباکو میں 50 سے زائد ایسے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جسم کو کینسر میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

2) سگریٹ کے ذریعے تمباکو کے دھوئیں سے انسانی جسم میں خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔

3) تمباکو کے دھوئیں میں کاربن مونواکسائیڈ گیس ہوتی ہے، جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بن جاتی ہے جس کی وجہ سے  سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

4) تمباکو نوشی انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے اس سے انسان پھیپھڑوں کے كینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری اور پھیھپڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور تمباکو نوشی سے متاثرہ مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

5) سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کیلئے عام افراد کی نسبت دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔

 6) تمباکو کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت ہوجاتے ہیں اور پھر دل کے پھٹوں کو خون کی فراہمی بند ہوتی ہے اور انسان کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ 

7) سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے انسانی دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور وہ شخص ہیمبرج کا شکار ہو جاتا ہے۔

 8) تمباکو نوشی سے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوتے ہیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

9) اکثر کیسز میں سامنے آتا ہے کہ تمباکو نوشی منہ، خوارک کی نالی، گلا، جگر، معدے، لبلبہ، مثانہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتی ہے۔ 

10) تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر ان تمام برے اثرات کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل کو یہ مضر صحت نشہ بلکل بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ والدین کیلئے ان کے نوجوان اولاد ایک سہارا ہوتے ہیں تو تمباکو نوشی جیسے نقصان ده عادات کو کبھی نہیں اپنانا چاہئے مضر صحت بیماریوں سے بچ کر اپنے خاندان کو اپنی قربت سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم تمباکو نوشی جیسے  مضر صحت نشے سے اجتناب کریں گے تو اپنے خاندان پر کبھی مالی و ذہنی بوجھ نہیں بنیں گے۔

Twitter: ‎@RealYasir__Khan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!