تعمیراتی شعبے کو ٹیکس چھوٹ دینے کے لیے آرڈیننس کی تیاری مکمل

تعمیراتی شعبے کو ٹیکس چھوٹ دینے کے لیے آرڈیننس کی تیاری مکمل

باغی ٹی وی :ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال رکھنے کے حوالے سے حکومت نے تعمیراتی شعبے کو ٹیکس چھوٹ دینے کے لیے آرڈیننس تیار کرلیا جو آج منظوری کے لیے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جاسکتا ہے۔

پبلک آفس ہولڈرز، کالا دھن ثابت ہو جانے والے اور منی لانڈرنگ کے سزا یافتہ افراد سکیم سے مستفید نہیں ہوسکیں گے، 2018 کی اثاثے ظاہر کرنے والی ایمنسٹی سکیم میں بے نامی کی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے بھی اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ آرڈیننس پارلیمنٹ کا مسودہ اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے تیار کیا گیا ہے۔ تعمیراتی انڈسٹری کو ٹیکس چھوٹ دینے کیلئے صدارتی آرڈیننس تیار کر لیا گیا ہے جو تین حصوں پرمشتمل ہے، حکومت اس آرڈیننس کا آج اعلان کریگی، صدرمملکت کے دستخط کے بعد اسے نافذ کر دیا جائیگا۔

پہلے مرحلے میں ذاتی گھر فروخت کرنے والوں کو کیپٹل گین ٹیکس کا استثنیٰ دیا جائے گا تاہم یہ چھوٹ پانچ سو گز سے کم کے گھر پر دی جائیگی، چار ہزار فٹ سے کم فلیٹ پر بھی یہ چھوٹ حاصل ہو گی، آرڈیننس کا دوسرا حصہ بلڈر اور ڈویلپرز کو ٹیکس کی چھوٹ اور مراعات سے وابستہ ہے، یہ چھوٹ صرف ان بلڈرز اور ڈویلپرز کو دی جائے گی جو کہ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں، کوئی کالا دھن اور منی لانڈرنگ کرنے والا آرڈیننس سے مستفید نہیں ہوسکے گا، بے نامی دار بھی آرڈیننس سے مستفید نہیں ہوسکیں گے.
واضح‌رہےکہ حکومت معاشی طور پر ان حالات میں لوگوں‌ کو ریلیف دینے کی کوشش میں ہے. کرونا کی وجہ سے بہت زیادہ پاکستانی شہری بے روزگار ہوگئے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.