تعمیراتی صنعت کو حکومت نے دیا بڑا ریلیف، فردوس عاشق اعوان نے بتائی تفصیل

تعمیراتی صنعت کو حکومت نے دیا بڑا ریلیف، فردوس عاشق اعوان نے بتائی تفصیل

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے،حکومت کو صحافیوں کودرپیش مشکلات کااحساس ہے ،مشکل وقت میں قوم کے تمام شعبے اپنی طاقت یکجاں کرکے مدد گار بن جاتے ہیں،مشکل وقت میں قوم کے تمام شعبے اپنی طاقت یکجاں کرکے مدد گار بن جاتے ہیں،

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے ترقی یافتہ ممالک بھی زمین بوس ہوچکے ہیں کورونا نے ساری دنیاکی معیشت کو ہلا کر رکھ دی،کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں ،دنیابھر میں طبی عملہ اورپیرا میڈکس کوروناکے خلا ف فرنٹ لائن پر ہیں،

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی صنعت کے لیے وفاقی کابینہ نےآرڈیننس کی منظوری دے دی، وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کی منظوری دی ہے، اسکی ضرورت اس لئے ہے کہ ہر چیز لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور محنت کش، مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے شہری کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں، اس انڈسٹری کے ساتھ جڑی 40 انڈسٹریز کو ایس او پیز کے ساتھ کھولا جائے،بلڈرز اور ڈویپلرز کے لئے فکس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، فی مربع فٹ یا گز فکس ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا اس کو ختم کیا گیا ہے، سیکشن 111 آمدنی کی وضاحت سے استثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے، اس کا اطلاق منصوبوں میں پیسے یا زمین میں انویسٹ کی گئی سرمایہ کاری پر لاگو نہیں ہو گا، اسکے لئے کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں، جو ریلیف دیا جا رہا ہے اس کو ایس او پی کا پابند کیا جا رہا ہے، ایک مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کروایا گیا ہے،

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے آرڈیننس کی منظوری دے دی، وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری لی گئی، آرڈیننس منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے،تعمیراتی انڈسٹری کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، صدر مملکت کی منظوری کی بعد وزارت قانون آرڈیننس کا اجرا کرے گی۔ آرڈیننس کے تحت تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائیگا، بلڈرز، لینڈ ڈیولپرز کو خصوصی مراعات دی جائیں گی، سیمنٹ اور سٹیل کے علاوہ بلڈنگ مٹیریل پر ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں پر 90 فیصد تک ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، نامکمل، جاری اور 31 دسمبر 2020 سے پہلے کے منصوبے سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے، مراعات حاصل کرنے کیلئے نئے، جاری منصوبوں کی ایف بی آر میں رجسٹریشن لازمی ہوگی، پبلک آفس ہولڈر اور سزا یافتہ افراد آرڈیننس سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی وزیراعظم نے دی منظوری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.