تنہا رہا جائے یا احباب میں؟ تحریر: محمد وقاص

0
78

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب زیادہ تر لوگ بیرونی عوامل یا رجحانات کو دیکھ کر دیتے ہیں۔ شوشل میڈیا پر آپ کہیں بھی سیر کر آئیں تقریبا تمام لوگ دوسروں کی آراء کو ہوبہو فروغ دیتے دکھائی دیں گے یا لوگوں کے رویوں پر مکمل منحصر ہو کر رد عمل دیں گے۔ نتیجے کے طور پر وہ دونوں انتہائی اقدام میں سے ایک کو اپنا لیتے ہیں۔ یا تو بالکل اکیلے رہنا یا ہر وقت دوست احباب میں۔ معاشرے میں موجود تمام لوگ جن سے آپ لین دین رکھتے ہوں سب کے حقوق ہیں جن کے تحت وہ اہمیت اور توجہ کے مستحق ہیں۔ دوست احباب کے علاوہ آپ کا اپنا کنبہ ہے جسکو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  ان تمام تر صورتحال میں آپکو ایک سوچ کے تحت معاملات کو دیکھنا چاہیے۔

میری رائے میں اس سوال کا جواب کسی بیرونی رجحان یا عوامل کا براہ راست محتاج نہیں۔

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور یہ اعزاز اسکو عقل وشعور کی بدولت حاصل ہے جس کے زریعے وہ صحیح اور غلط میں فرق جان سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو مختلف جزبات بھی عطا کیے ہیں جسکا اظہار اسکے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان جزبات کی کیفیات تھوڑے سے وقت میں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔ بالکل پرندے کےاس پر کی مانند جو ہوا کی لہروں کے ساتھ الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ایک لمحے انسان کچھ سوچتا ہے اور اسکے اگلے ہی لمحے انسان کا مزاج کسی اور نقطہءنظر کا حامی ہو جاتا ہے۔ انسان کو جو چیز جانوروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکا اپنے جزبات پر ضبط اور انکو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ صلاحیت اسکو عقل عطا کرتی ہے۔ کسی بھی پریشانی یا مصیبت میں جب انسان تزبزب کا شکار ہوتا ہے تو اپنی عقل کی توانائیوں کو بروئے کار لاتا ہے اور اس کا سدباب تلاش کرتا ہے۔ جو سوال میں نے شروع میں پوچھا اس کے جواب کا اشارہ تو مل ہی چکا ہو گا اب تک۔

کوئی بھی انتہائی قدم کسی صورت آپکو زیب نہیں دے گا کہ ساری زندگی اسی کو اپنائے معاشرے میں رہ سکیں۔

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ معاشرے میں موجود تمام افراد سے اسکا کسی نہ کسی صورت تعلق واسطہ ضرور ہوتا ہے۔ ان سب سے انسان اپنے آپ کو لاتعلق نہیں کہہ سکتا۔ کوئی آپ کا رشتہ دار، کوئی دوست یا کوئی ہمسایہ ہو گا۔ سب کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی شریعت نے آپ پر لاگو کی ہے۔ معاشرے سے کٹ کر انسان اپنی بقا بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ تمام بدلتے رجحانات اور جدید تقاضوں پر نظر رکھنا ایک ناگزیر امر بن چکا ہے۔ دنیا حیرت انگیز تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس انقلابی ترقی کے فوائد اور نقصانات سے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ان چیزوں کے برے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہزا معاشرے کیساتھ جڑے رہنا چاہیے۔ 

کچھ لوگوں کے بارے میں چیزیں بالکل واضح ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے گھر والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے سوائے اس کے کہ انکا کوئی حکم احکام الہی سے متصادم ۔ اسی طرح برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے آپ کو منع کیا گیا ہے۔ 

ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا۔ ان لوگوں کی ذہنی کیفیت پر تعجب ہوتا ہے جو خواہ مخواہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ دنیا کی مشقت اور وحشت کو اپنے زہن واعصاب پر اس قدر حاوی کر لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب کچھ ناممکن ہو جاتا ہے۔ مایوسی کو اپنی دھن سمجھ کر اسمیں رہتے ہیں۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں ان حضرات کی جو افسانوی دنیا کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ حقیقت کو اپنانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ جو فلموں، ڈراموں یا افسانوی تحاریر میں دیکھتے پڑھتے ہیں اسکو اپنی حقیقی زندگی سے تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ محض خیالی پلاؤ ہوتے ہیں جنکی رنگینیوں اور چاشت کا سہارا وہ سست اور کمزور لوگ لیتے ہیں جو مشقت کرنے سے کتراتے ہیں۔ کوئی بھی چیز بغیر محنت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ناکام لوگ بجائے محنت کرنے کے دنیا سے گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ساری دنیا بے وفا اور ظالم ہے۔ اس قسم کی تنہائی بھی سراسر بے وقوفی ہے۔

غوروفکر کرنے کیلیے تنہائی بہترین ہے۔ البتہ ایک مخصوص وقت اور مقصد کا تعین لازمی ہے۔ قرآن پاک میں سورتہ الحدید کی ستائیسویں آیت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو خود سے ایسی چیزیں ایجاد کرکے اپنے آپ کو مشقت اور قید و تنہائی کی اذیت میں ڈال دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے ان پر فرض ہی نہیں کی تھیں۔ اس قسم کی تنہائی بھی بلاجواز کہلائے گی جسکا حاصل محض معاشرے سے دوری کے سوا کچھ نہ گا۔

کچھ لوگ وہ ہیں جو ہر وقت دوست احباب کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اسی رفاقت میں اپنے والدین اور گھر والوں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اپنے دسترخوان کو دوستوں کی محفل سے بارونق رکھنا لمبی عمر پانے کا راز ہے۔ مگر دوسری طرف آپ کو خیال رکھنا ہو گا کہ آپ اپنے گھر والوں اور دوسرے وابستہ لوگوں کے حقوق سلب نہیں کر رہے۔ سب کے حقوق ہیں جنکی ادائیگی آپ پر فرض ہے۔ 

دونوں انتہائی اقدام لمبے عرصے کے لیے کارگر ثابت نہ ہوں گے۔ نہ تو آپ کے لیے ہمیشہ تنہا رہنا کارگر ثابت ہوگا اور نہ ہی ہر وقت دوستوں میں رہنا درست ہو۔ لمبے عرصے کے لیے آپ کو ان دونوں انتہائی اقدام میں اعتدال لانا ہوگا۔ چیزوں کو سمجھ بوجھ کر انکی اہمیت کے مطابق وقت دیں۔ بلاشبہ عقل آپ کو استعمال کرنے کیلیے عطا کی گئ ہے۔ المختصر تنہائی اور رفاقت میں توازن کیساتھ چلنا بہترین انتخاب ہوگا۔

Leave a reply