fbpx

ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

چین نے کہا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ یکجہتی اور ہم آہنگی سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک کے سفیروں کے ساتھ بذریعہ وڈیو لنک ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کثیر الجہتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور کردار کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ چین برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ انسانی حقوق کے تبادلے اور تعاون کے فروغ کے لیے تیار ہے ۔انہوں نے تائیوان سے متعلق تاریخی حقائق اور چین کے پختہ مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چین کو امریکا کی جانب سے ہر اشتعال انگیزی کا ضروری اور جائز جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں باہمی تبادلوں کے دوران عدم مداخلت کے اصول کا احترام کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر موجود سفیروں نےکہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کے ذریعے قائم کردہ ون چائنا اصول بین الاقوامی برادری کا اتفاق رائے ہے اور تمام ممالک اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی سیاسی بنیاد ہے۔

تائیوان اور سنکیانگ دونوں چین کے اٹوٹ انگ ہیں اور چین کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے مسائل پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور عالمی برادری کو چین کی جانب سے اپنے جائز حقوق کے دفاع کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔