fbpx

ترقیاتی فنڈز کا مسئلہ صرف خیبر پختونخوا نہیں پورے ملک کا ہے،سپریم کورٹ

ترقیاتی فنڈز کا مسئلہ صرف خیبر پختونخوا نہیں پورے ملک کا ہے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا میں ترقیاتی فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی گئی

درخواست گزار اور صوبائی حکومت نے معاملہ حل کرنے کیلئے وقت مانگ لیا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی فنڈز کا مسئلہ صرف خیبر پختونخوا نہیں پورے ملک کا ہے،بلدیاتی حکومتیں بھی فنڈز کی شکایت کرتی رہتی ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترقی ہر علاقے میں مساوی ہونی چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی علاقے کو بالکل ہی فنڈز نہ ملیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی فنڈز کا جو بھی حل نکالیں اس سےعدالت کو آگاہ کریں، ملک بھر میں سڑکیں بننی چاہیئں ، سکول اور اسپتال تعمیر ہونے چاہیئں، بنیادی سہولیات کی فراہمی تو ہر علاقے کی ضرورت ہے،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

میڈیا پر پابندی لگانے والے مجرم،انہیں جیل میں ہونا چاہئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

وزیراعظم عمران خان کے خلاف کرپٹ پریکٹس کے استعمال کی درخواست پر سماعت ملتوی

واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ترقیاتی فنڈز دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں بھی کیس کی سماعت ہوئی تھی، سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہم ریمارکس دیئے تھے تا ہم بعد ازاں چیف جسٹس نے درخواست نمٹا دی تھی ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے پر اخباری خبر پر نوٹس لیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا اراکین اسمبلی کو فنڈز دینا آئین و قانون کے مطابق ہے؟، فنڈز آئین، قانون، عدالتی فیصلوں کےمطابق ہیں تو معاملہ بند کردینگے،