fbpx

سانحہ مری، وزیراعظم نے کی ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوشوں کی تعریف

سانحہ مری، وزیراعظم نے کی ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوشوں کی تعریف

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی رہنماوَں اورترجمانوں کا اجلاس ہوا

اجلاس میں سول ملٹری تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی، وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے ترجمانوں کو آگاہ کیا ،وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی آرہی ہے، اجلاس میں سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،اور کہا گیا کہ ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں،اجلاس میں وفاقی وزرا ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے ،وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پوری صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا ، شام 5 بجے ہی مری جانے والے راستے بند کر دیئے تھے، حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر تھے، رینجرز طلب کرنا پڑی،

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے،سیاحت بڑھ گئی ہے، انفراسٹرکچر کئی دہائیاں پیچھے ہے،نئےہوٹلز کی تعمیرکے ساتھ پرانے اسٹرکچر کوبہتر کرنا لازمی ہے،بڑھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے،وزیراعظم عمران خان نے ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوشوں کی تعریف کی

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں 6 روز کی بارشوں نے 18 افراد کی جان لے لی، 46 زخمی ہوئے ،119 گھروں کوجزوی نقصان پہنچا ،پی ڈی ایم نےرپورٹ جاری کردی ،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کوپالیسی کےمطابق معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی،گلیات، توحید آباد، کنڈلہ سے 40 فٹ اونچی سلائیڈنگ ہٹا دی گئی روڈ کلیئر کر دی گئی ضلعی انتظامیہ کو برفباری سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کر دی گئی ہے

قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے سیاحت حسان خاور نے سیاحتی مقامات پر انتظامی امور میں بہتری لانے کیلئے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

اجلاس میں سانحہ مری کے حوالے سے مختلف تکنیکی وجوہات اور آئندہ کے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حسان خاور نے سانحہ مری کے تناظر میں اعلیٰ افسران پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی تشکیل کرنے کا احکامات جاری کیے ،کمیٹی آئندہ سانحہ مری جیسے واقعات کے تدارک کیلئے اپنی سفارشات 48 گھنٹوں میں پیش کرے گی ،معاون خصوصی نے محکمہ سیاحت سے مری کے ڈیسٹینیشن (Destination) مینجمنٹ کے حوالے سے ماضی کی تمام سٹڈیز (Studies) اور ان پر عملدرآمد کی رپورٹس طلب کر لیں۔کمیٹی مری میں سیاحوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز دے گی۔معاون خصوصی نے مستقبل میں ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کیلئے آئندہ اقدامات پر لانگ ٹرم سفارشات طلب کر لیں۔ اجلاس میں ٹوارزم پولیس فورس اور ٹوارزم اتھارٹی کے قیام بارے پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال گیا گیا۔

حسان خاور کا کہنا تھا کہ ماضی کی سفارشاتی رپورٹس پر عملدرآمد اور مستقبل میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی۔ کمیٹی ہوٹلوں کی رجسٹریشن، کرایہ جات و دیگر متعلقہ معاملات کا ازسرنوجائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی ہوٹلوں کی جانب سے اوورچارجنگ کی روک تھام کے قانون اور اس کے نفاذ بارے جامع رپورٹ پیش کرے گی۔ مری میں رش کے دنوں میں ٹریفک پلاننگ کے حوالے سے بھی تجاویز اور عملدرامد کے حوالے سے رپورٹ بھی کمیٹی مرتب کرے گی۔ محکمہ موسمیات کی ٹریول وارننگ کے حوالے سے بروقت اور موثر ٹریول ایڈوائزری جاری کرنے کا میکانزم طے کیا جائے گا اوور چارجنگ کے ذریعے سیاحوں کا استحصال روکنے کا موثر سسٹم بنایا جائے گا۔

قبل ازیں پنجاب کے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ سانحہ مری پر کمیٹی سے 7روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے، راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ حادثہ پیش آیا وہ مری سے واپس آرہے تھے،لوگوں نے اس لیے ہوٹلوں میں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا کہ وہاں بجلی نہیں تھی وزیراعلیٰ نے ا وورچارجنگ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے،ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں،سانحہ مری کے ذمہ داروں کا تعین ضرور کیا جائے گا،وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ کل مری میں موجود تھا 7روز میں رپورٹ آئے گی اسکے بعد کارروائی ہوگی مری میں جو برفباری ہوئی وہ برفانی طوفان تھا،

وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار مری کے ہوٹلوں میں اوورچارجنگ کی شکایات پر سخت برہم ہو گئے ،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مقررہ کرائے سے زیادہ وصول کرنے والے ہوٹل مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن اورمتعلقہ حکام اوورچارجنگ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔کھانے پینے کی اشیاء اور رہائش میں اوورچارجنگ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو لوٹنے والوں کومعاف نہیں کیا جائے گا۔اوورچارجنگ کاروبار نہیں، لوٹ مار کے مترادف ہے جو قطعاً برداشت نہیں۔انتظامیہ سیاحتی مقامات پر ریٹ لسٹ کے مطابق اشیائے صرف کی خرید و فروخت یقینی بنائے۔انتظامی افسران اوور چارجنگ کے سدباب کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں –

قبل ازیں ٹویٹر پر صارفین نے مری میں ہوٹلوں کے کرائے میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر کڑی تنقید کی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ کل رات مری میں ہوٹل والے 5 ہزار کا کمرہ 25ہزار میں دےرہےتھے،برف میں پھنسے لوگوں کو ایک انڈا 5سو روپےکا فروخت کیاجا رہاتھا،چھوٹی گاڑی کو دھکہ لگانےکا 3ہزار اور بڑی گاڑی کو دھکہ لگانےکا 5ہزار لیا جا رہا تھالیکن ٹی وی چینلوں پر گفتگو سنیں تو لگےمری والوں جیسا نیک اور مددگار کوئی نہیں

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ جمال لاج مری نے 6 جنوری کو کمرے کا کرایہ 20 ہزار روپے لیا ہے رسید ملاحظہ فرمائیں، ٹیکس وغیرہ کا خانہ بھی کاٹا ہوا ہے

مری سانحہ کے تین دن بعد مری میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں ، مری سمیت تمام علاقوں میں ریسکیو آپریشن 48 گھنٹے جاری رہا ، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مری میں سیاحوں کے لیے داخلہ تاحال بند ہے ،برفانی طوفان کے تین روز بعد بھی معمولاتِ زندگی بحال نہ ہوسکے ملکہ کوہسار مری میں پانی و  بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے جب کہ موبائل فون سروس بھی متاثر ہے مری میں امدادی کارروائیاں اور ریسکیو ریلیف آپریشن تاحال جاری ہے سیاحتی مقام پر اب وہ لوگ موجود ہیں جن کی یا تو گاڑیاں خراب ہیں یا انہیں کسی قسم کے دیگر مسائل کا سامنا ہے کچھ سیاح اپنی گاڑیاں برف میں چھوڑ کر واپس جاچکے ہیں گزشتہ رات واپڈا کی ٹیمیں بجلی بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف رہیں،صورتحال سنگین ہونے کے باعث کچھ مقامات پر اب بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے

ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی ٹریفک پولیس اور ضلع پولیس کی انتھک محنت سے مری کی تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کےلئے کلیئر کر دیا گیا۔ سی پی او راولپنڈی ساجد کیانی اور سی ٹی او راولپنڈی تیمور خان مسلسل تمام آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے۔ ٹریفک پولیس اور ضلع پولیس کے جوان گزشتہ 72گھنٹوں سے سیاحوں کی مدد اورروڈ کلیئر کروانے کے لئے متحرک رہے۔ سی ٹی او راولپنڈی تیمور خان گزشتہ 4 روز سے مری میں موجود ہیں او جوانوں کے ساتھ ملکر سیاحوں کی مدد کرتے رہے۔ برف میں پھنسے سیاحوں کو گزشتہ روز ہی ریسکیوکر کے محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا تھا۔ برف میں پھنسی سیاحوں کی تمام گاڑیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد ان کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس اور ضلع پولیس کے ایک ہزار سے زائد جوانوں کی مدد سے ریسکیوا ٓپریشن مکمل کیا گیا جھیکا گلی سے لوئر ٹوپہ اورھیکا گلی سے لارنس کالج روڈ مکمل کلیئر ہے۔ جھیکا گلی سے بائی پاس ،جی پی او چوک وکشمیر پوائنٹ تک روڈ روڈ سے برف ہٹا دی گئی ہے۔جھیکا گلی سے کلڈنہ اور کلڈنہ سے باڑیاں روڈ تک روڈ سے برف ہٹا کر کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مری کے تمام داخلی راستے سیاحوں کےلئے آج رات 9 بجے تک بند ہیں

قبل ازیں مری میں جاں بحق شہزاد اور فیملی کے چھ افراد کا معاملہ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اہل خانہ سے تعزیت کیلئے پہنچ گئے ،اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس کا بہت افسوس ہے،قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ مری میں اتنی برفباری ہوئی کہ محکمہ موسمیات کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ مری کا رخ کریں گے آئندہ کیلئے منصوبہ بندی کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا

مری سانحہ کے بعد ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پنجاب حکومت کو پیش کر دی گئی ہے ،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالہ سے نجی ٹی وی نے بتایا کہ رپورٹ میں کئی انکشافات سامنے آئے ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں مری اور گردو نواح کی مین سڑکوں کی کسی قسم کی مرمت نہیں کی گئی، سڑک پر گڑھے تھے اور گڑھوں میں پڑنے والی برف سخت ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنی ،مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کے لیے ہائی وے کی مشینری موجود نہیں تھی مری کے مختلف علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی رات گئے ڈی سی راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کی مداخلت پر مری میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی اور مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیورز بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکے تا ہم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک کی روانی یقینی بنانے موقع پر موجود تھے مری میں ایسا کوئی پارکنگ پلازا موجود نہیں جہاں گاڑیاں پارک کی جا سکتیں، صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی

سانحہ مری کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ 7 جنوری کو مری میں 16 گھنٹے میں 4 فٹ برف پڑی، 3 جنوری سے 7جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئیں، برفباری کے دوران گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں ابتدائی رپورٹ پروزیراعلیٰ نے مری میں گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کی آمد پر برہمی کا اظہار کیا

قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب نے مزید تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔سانحہ مری، چيف سيکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے انکوائری کميٹی کا نوٹيفيکشن جاری کر ديا. ظفر نصرالله (ايڈيشنل چيف سيکرٹری) کو انکوائری کميٹی کا کنوينر مقرر کر ديا گيا،انکوائری کے باقی ممبران ميں دو صوبائی سيکرٹری اور ايک ايڈشنل آئی جی شامل ہیں،

انکوائری میں پوچھے گئے آٹھ سوالات بھی سامنے آئے ہیں ،میٹ ڈيپارٹمنٹ کی موسمیاتی وارننگ کے باوجود جوائنٹ ایکشن پلان کیوں نہیں تیار کیا گیا؟کیا تمام سیاحوں کے لئے لیے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی یا کوئی وارننگ دی گئی تھی؟مری کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے لیے کیا اقدامات کیے گئے گئے ؟ کیا ٹریفک (گاڑيوں) کی تعداد کو گنا گیا اور جب گاڑیاں بڑھ گئی تو ان کو روکا کیوں نہیں گیا ؟کیا کرائسس کے لیے پلان ترتیب دیا گیا تھا؟کیا کوئی کنٹرول روم بنایا گیا تھا؟ کیا لوکل ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے ساتھ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے رابطہ قائم کيا گیا؟ ريسکيو آپریشن کتنی حد تک کامیاب رہا ؟کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا؟ اس سارے کرائسس میں کیا کمی اور کوتاہیاں کن کن افسران کی تھی؟

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی جنوبی پنجاب کے ایگزیکٹوز کا بلاول ہاؤس میں اجلاس ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کا آغاز سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعا سے ہوا ،شرکائے اجلاس نے اتفاق کیا کہ سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والوں پر حکومت کی جانب سے اپنی موت کی خود ذمہ داری عائد کرنا سفاکیت کی انتہا ہے، شرکاء اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مری کی شفاف انکوائری کروائی جائے، غفلت کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لاکر سخت سزا دی جائے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی وسیب کے عہدیداران نے جنوبی پنجاب کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی وسیب کے عہدیداران کی جانب سے لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کی یقین دہانی، تیاریوں سے بھی آگاہ کیا

بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عوام مررہے ہیں اور حکمران موت کا ذمہ دار خود مرنے والوں کو قرار دے رہے ہیں،ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر مرتے لوگوں کا تماشہ دیکھنے والے حکمران وہی تھے جو کل تک سائیکل والے وزیراعظم کی مثالیں دیتے تھے، پاکستان پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ پاکستان کے ہر عام آدمی کے لئے ہے،ظالم حکمران عوام کو تکلیفیں دیتے رہیں اور میں خاموش بیٹھا رہوں، یہ کبھی نہیں ہوسکتا، پاکستان پیپلزپارٹی کا احتجاج کا واحد مقصد حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کا خاتمہ ہے،

ن لیگی رہنما ،پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ دوسرا دن ہے اور پوری قوم صدمے میں ہے سب کو معلوم ہے کہ مری میں 4ہزار سے زائد گاڑیوں کی گنجائش نہیں ہے، جب ایک لاکھ گاڑیاں مری پہنچنے تک صوبائی حکومت سورہی تھی جب اموات ہوئیں تو ان کے وزرا مگرمچھ کے آنسو بہانے پہنچ گئے،یہ وہی عمران نیازی ہے کہ جب کراچی میں طیارہ گرا تب یہ نتھیا گلی میں بیٹھا ہواتھا،

قبل ازیں مری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ اور بارشوں و دیگر واقعات کے باعث عمارتیں گرنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کر دیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ناگہانی واقعات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کی اور کہا کہ مالی امداد کسی زندگی کا مداوا نہیں۔
غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔مری میں پیش آنے والے واقعہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ 76لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔
مری کے واقعہ کی انکوائری کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کوتاہی یا غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔مری میں آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کیلئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پلاننگ کیلئے ہدایات جاری کردی ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سانحہ مری میں قومی ذمہ داری میں بھی کوتاہی ہوئی اور ذاتی ذمہ داری کی بھی کوتاہی ہوئی سب سے پہلے مری کے سانحہ پر دکھ اور افسوس کا اظہار کروں گا اور سانحے پردعا کرنا چاہوں گا وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا .میں پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ مدد کو پہنچے تمام علماء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی مساجد اور مدرسے کھول کر لوگوں کی مدد کی ، تمام مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہےہم مسجد و مدرسہ کے کل بھی محافظ تھے آج بھی محافظ ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اس حکومت میں بہت کام ہوا

مری سانحہ، غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ مبشر لقمان برس پڑے

مری میں ہونے والی برفباری میں اسلام آباد پولیس کا اہلکار اہلخانہ سمیت جاں بحق ہو گیا

ایک طرف انسانیت، دوسری طرف بربریت،مسلم امہ کا امتحان ہے، وزیر خارجہ

آن لائن کلاسز .اب امتحان بھی آن لائن ہی لیں، طلبا سڑکوں پر آ گئے

طلبا خبردار، پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا شیڈول تیار

امتحانات کے معاملے پر سستی سیاست بند کی جائے، شفقت محمود

ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

ٹرمپ میرے خواب میں آئے ،بھارتی شہری نے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل ایسا کام کیا کہ سب حیران

متنازعہ شہریت بل پر امریکا میدان میں آ گیا،ٹرمپ کریں گے مودی سے کشمیر، شہریت بل پر بات

ٹرمپ کا کریں گے بھارتی فنکار استقبال،28 سٹیج تیار، طلبا کیا کریں گے؟ ڈیوٹی لگا دی گئی

بھارت میں کھڑے ہوکر ٹرمپ نے پاکستان بارے ایسا کیا کہہ دیا کہ مودی کو پسینے چھوٹ گئے

ٹرمپ کو ویلکم کرتے وقت مودی نے ایسے نام سے پکارا کہ ٹرمپ منہ دیکھتے رہ گئے، دیا کھرا جواب

مری، اموات میں اضافہ، جاں بحق افراد کی فہرست جاری

مری واقعہ،ن لیگ کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ

مری سانحہ،مذہبی جماعتیں ریسکیو ،رفاہی کام میں متحرک، ووٹ لینے والی جماعتیں غائب

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!