fbpx

تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

وہ شخصیات تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ہوتی ہیں جن کے بارے میں کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی اتنی تشہیر کی جائے کہ وہ قبولِ عام کا درجہ حاصل کر لے۔
اگرچہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی عمومی وجہ شہرت یہی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا دل و جان سے بھرپور ساتھ دیا مگر انہوں تاریخ برصغیر اور پھر پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ خود بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بھابھی محترمہ رتی بائی (مریم جناح) کی ناگہانی وفات کی وجہ سے اپنے عظیم بھائی کو پہنچنے والے شدید صدمے کے دوران انہیں سنبھالا دیا جس کے بغیر شاید وہ تاریخ کا دھارا نہ موڑ سکتے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اسلامی مملکت منصہ شہود پر نہ ابھرتی جس کا 14 اگست 1947ء سے پہلے وجود بھی نہ تھا۔

انگریز سامراج، کانگرس اور نیشلسٹ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے قیام کا معجزہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے قائداعظمؒ جلد ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کو ایک افغان نے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا۔

ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے یہ جھٹکے قابل برداشت نہ تھے۔ قوم پے در پے دو عظیم صدمات سے دوچار ہوئی۔ سیاسی استحکام کی جگہ نظام سیاست میں جوڑ توڑ اور محلاتی سازشیں پروان چڑھنے لگیں۔ قصہ مختصر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا۔ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ ہوا۔ صدارتی انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف میں شامل قیام پاکستان کے بدترین مخالفین خان عبدالغفار خان و دیگر نے کمال ہوشیاری سے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو جنرل ایوب خان کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی الیکشن مہم کے انچارج بنائے گئے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مادر ملت کی شخصیت پر انتہائی نازیبا ریمارکس دیے جن کا تذکرہ بھی مادر ملتؒ کی توہین ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے مادرملتؒ کے خلاف جو توہین آمیز حرکت کی، اس کا تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگے، صدارتی انتخابات متنازع قرار پائے مگر جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ بےمثال اقتصادی ترقی ہوئی۔ بڑے ڈیم تعمیر ہوئے۔ جشن ترقی بھی منایا گیا مگر مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومیوں کا لاوہ سلگتا رہا جس میں مادر ملتؒ کی شکست کے صدمے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر حزبِ اختلاف متحرک ہوئی۔ عوام کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے پیش نظر صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے۔ زمامِ اقتدار جنرل یحیٰ خان نے سنبھال لی۔ ون یونٹ سسٹم ختم ہوا۔ عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سرخرو ہوئی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا حق بنتا تھا جسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئی۔

پھر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ کہا گیا کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ کسی نے بھی تحقیق کی کوشش نہ کی کہ اس الزام کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ کن اخبارات میں یہ بات رپورٹ ہوئی۔ تاریخ نویسی کے اصولوں پر پوری اترنی والی تاریخی شہادتیں کیا ہیں؟ اس کسوٹی پر کسی نے بھی الزام کو پرکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ بس بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی کا قصہ ہوا۔ بات کو غلط العام کا درجہ حاصل ہو گیا۔ فوج سے نفرت کرنے والے عناصر نے اس الزام کو دہرانا ایک فیشن بنا لیا۔

راقم الحروف نے جب تحقیق شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ناقدین کے پاس اس الزام کا کوئی تاریخی حوالہ اور ثبوت موجود نہیں جس میں جنرل ایوب خان نے مادرملت کو غدار قرار دیا ہو۔ صرف ٹائم میگزین میں یہ بات ملی کہ ایوب خان نے مادرملت کو پرو امریکن اور پرو انڈین قرار دیا مگر اس میں بھی یہ بات نہ ملی کہ ایوب خان نے مادرملت فاطمہ جناحؒ کو غدار (ٹریٹر) قرار دیا ہو۔ میں نے ایک معروف صحافی اور اس الزام کی تکرار کرنے والے دیگر مصنفین کو بار بار چیلنج کیا کہ کوئی تاریخی حوالہ پیش کریں بصورت دیگر قوم کی ماں پر بلاثبوت تہمت مت لگائیں کہ کوئی اولاد اپنی ہی ماں پر کبھی تہمت نہیں لگاتی۔ ایوب خان میں سینکڑوں خامیاں ہوں گی۔ ان سے اظہار نفرت کے لیے ان خامیوں پر تنقید کے ہزاروں زہریلے تیروں کی بارش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں میدان کھلا ہے مگر جنرل ایوب خان کے بغض میں مادرملت فاطمہ جناحؒ پر تہمت طرازی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ یہ امر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات تاریخ نویسی کے اصولوں کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملتؒ کو غدار قرار دیا تھا تو اگر اس بات کا دہرانا مادر ملتؒ پر تہمت قرار پائے گا تو یہ جنرل ایوب پر بھی بہتان ہو گا۔ یہ تاریخ پر کیسا ظلم ہے کہ ایوب خان پر بہتان لگا کر مادر ملت پر تہمت لگاؤ۔ ایک ہی تیر سے دو شخصیات کو گھائل کرو۔ کیسا کمال ہنر ہے کہ اس بات کی اتنی تکرار کرو کہ اگر ردعمل میں عوام کسی کے اقوال و افعال کو غداری کے زمرے میں شمار کریں تو وہ فخر سے کہے کہ ایوب خان نے مادر ملت کو بھی غدار قرار دیا تھا، لہذا اگر اسے بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ پس اب زمانے کا چلن یہ ہو گیا ہے کہ اس غیرمصدقہ الزام کی آڑ میں اب جو دل میں آئے کسی ثبوت کے بغیر بولیں۔ کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھیں۔ اگر ناقدین تاریخی حوالہ جات نہ دینے پر غدار کہیں تو خود کو مادرملت فاطمہ جناحؒ کا پیروکار قرار دے دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس توہین آمیز صورتحال میں مادر ملتؒ اور قائداعظمؒ کی ارواح جس کرب سے انگاروں پر لوٹتی ہوں گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔