fbpx

ٹیکس چورکون؟

تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
حکومت نے بڑی صنعتوں پر10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کااعلان کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اوراسے کنٹرول کریں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس(تخفیف غربت ٹیکس) لگارہے ہیں ان صنعتوں اسٹیل،سیمنٹ، شوگر، ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس، آٹو انڈسٹری، ہوا بازی، فرٹیلائزر، بینکنگ، انرجی اینڈ ٹرمینل سیکٹر پرسپرٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سگریٹ پر بھی ٹیکس لگے گا، 2 ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہو جاتا ہے، یہ پہلا بجٹ ہے جس میں اکنامک وژن دیا ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اسے کنٹرول کریں گے۔شہباز شریف نے ایک اور ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد سالانہ 15 کروڑ سے زائد کماتے ہیں ان کی آمدن پر1 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جا رہا ہے، سالانہ 20 کروڑ سے زائد پر 2 فیصد، 25 کروڑ پر 3 فیصد، 30 کروڑ سے زائد پر 4 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں پاکستان کی اشرافیہ اورامیرلوگ کیسے ٹیکس چوری کرتا ہے؟
پاکستان میںٹیکس چوری کرنے میں سرفہرست حکمران طبقہ ہے جوپاکستان میں 75سال سے اقتدارمیں ہیں جن میں جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما ئے اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوں کا حصہ ہیں۔ حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی اکثریت کا تعلق جاگیردار اور سرمایہ دار گھرانوں سے ہے جوبہت معمولی ٹیکس دیتے ہیں،زراعت پرمعمولی سا ٹیکس ہے، چاروں صوبوں میں جمع ہونے والا یہ ٹیکس کچھ ارب روپے کا ہوتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں زرعی ٹیکس لگایا جائے تو 500 ارب روپے سے 600ارب روپے کاریونیوآسانی سے جمع کیاجاسکتا ہے،یہاں جائیداد کے ٹیکسوںمیں بھی بہت ہیرا پھیری کی جاتی ہے،یہ سیاست دان جوسرکاری ریکارڈ میں اپنے اثاثے طاہرکرتے ہیںان اثاثوں یاجائیدادوں کی مالیت بہت کم لکھواتے ہیں، اگر دس سال پہلے ایک پلاٹ کی قیمت دس لاکھ تھی اور اب اس کی مارکیٹ ویلیو چھ کروڑ ہوچکی ہے تو وہ اپنے اثاثوں میں وہی 10سال پرانی قیمت محکمہ مال کے ریونیوافسران لکھوالیں گے۔ مثال کے طورپروزیر اعلی پنجاب حمزہ شریف نے اپنے گیارہ مکانات کی قیمت صرف تیرہ کروڑ روپے بتائی ہے،حالانکہ یہ بات ہرکوئی جانتا ہے جائیداد یں جتنی پرانی ہوتی جائیں گی ان کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گے لیکن سیاستدانوں کی سرکاری ریکارڈ میں ظاہرکردہ اثاثوں کی قیمتیں وہی برقرار رہتی ہیں ۔
سوشل میڈیا پر مسلسل ان سیاستدانوں جن میں آصف علی زرداری، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شریف سمیت کئی سیاست دانوں کے اثاثوں کی سرکاری اداروں کو دی جانے والی قیمتوں پر بہت تنقید کی جاتی رہی ہے، مثال کے طور عمران خان نے بنی گالہ کے گھر کی قیمت جبکہ شریف اور زرداری گھرانوں نے اپنی جائیدادوں کی قیمتیں اپنے اثاثوں میں مارکیٹ ویلیو سے بہت کم لکھی ہیں،سوشل میڈیا صارفین برملایہ کہتے رہے ان کے گھروں کی ظاہرکردہ قیمتوں سے ہم تین گنازیادہ رقم دینے کوتیارہیں ،یہ گھر ہمیں دئے جائیں۔ دوسری طرف ماہرین کاکہناہے کہ کہ اگر 1200سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے مارکیٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے تو اربوں روپے حاصل کیا جا سکتے ہیں، اگر یہ ٹیکس پوری ایمانداری سے پورے ملک میں نافذ ہوجائے تو عام آدمی پر جی ایس ٹی لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اُدھرتاجروں کابھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی تعلق ہوتاہے،اسی سیاسی اثررسوخ اورطاقت کے بل بوتے پر یہ تاجر و مقامی صنعت کار انڈر انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس چوری کرتے ہیں،مثال کے طورپر گارمینٹس اور دوسری صنعتوں سے وابستہ سرمایہ دار اگر ڈسٹربیوٹرز یا ہول سیل سپلائرز کو اپنی پراڈکٹ 50 کروڑ کی بیچتے ہیں تو انوائس میں 25کروڑ ظاہر کرتے ہیں اور ٹیکس پھر 25 کروڑ کے حساب سے دیتے ہیں۔ تاہم ایکسپورٹرکیلئے ایساکرنامشکل ہے،ماہرین کامانناہے کہ ہمارے ملک کے سرمایہ دارسیاستدانوں نے اپنی ہی کوئی کمپنی دوسرے ملک میں کھولی ہے، تو وہ منی لانڈرنگ کر سکتا ہے اور اوور انوائسنگ بھی کرتا ہے،جہاں وہ ڈالرز بھیجتے ہیں اور بعد میں ایکسپورٹ کے نام پر اس پیسے کو وہ وائٹ کر لیتے ہیں۔ایف بی آر کی ویب سائٹس سے ریکارڈدیکھاجائے تو وہاں پیشے میں کئی سیاست دانوں نے زراعت لکھا ہے اور ٹیکس صفر ہے۔ حالانکہ ان پر ٹیکس بھی بہت معمولی ہے وہ یہ تھوڑا ساٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جب کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی رہائش سے لے کر گاڑی تک سب ٹیکس فری ہے ،جوعوام کے دئے ہوئے ٹیکس کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کر رہے ہیں اور ہربارعوام سے ہی قربانی مانگی جاتی ہے ،دراصل ایوان اقتدار بیٹھے ہوئے یہ جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوںسے تعلق رکھنے والے نام نہاد بڑے لیڈرجن سے پاکستان قوم کادکھ درد سہانہیں جارہااورجھوٹے ٹسوے بہارہے ہیں یہی مافیا ٹیکس چورہے ،عام پاکستانی بچے کی پیدائش سے لیکر میت کے کفن تک ٹیکس دیتا ہے پھر بھی عام پاکستانی پر الزام ہے یہ ٹیکس نہیں دیتے۔