fbpx

سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی،چیف جسٹس

پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش

اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،شہباز شریف کی سپریم کورٹ میں استدعا

سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی پولیس کی مزید نفری سپریم کورٹ کے باہر تعینات کر دی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف متوقع فیصلے کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی پولیس ، رینجرز کے ساتھ ایف سی کے اہلکار بھی سپریم کورٹ احاطے میں تعینات کر دیئے گئے ہیں

سپریم کورٹ،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پر سماعت جاری سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پرسماعت کررہا ہے

باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کو بحال کرنے میں آج پانچ دن لگے ہیں اراکین اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کو پنجاب اسمبلی جانے سے روک دیا گیا-

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ آئین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے،پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی رات کو طلب کیا گیاسابق گورنر پنجاب آج باغ جناح میں حلف لے رہے ہیں-چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں تحریری جواب جمع کرائیں، اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتے لاہور ہائیکورٹ پنجاب کا معاملہ دیکھے گی ہم صرف قومی اسمبلی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں خود فریقین آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں-ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر نے کہا تھا آئین 10 بارہ صفحے کی کتاب ہے کسی بھی وقت پھاڑ سکتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تقریر نہ کریں ہم پنجاب کے مسائل میں نہیں پڑنا چاہتے-

جسٹس مظہر عالم میاں خیل ٹی وی پر یہ بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں خاردار تاریں لگا دیں،معاملات کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کہاں جائیں جب اسمبلی کو تالے لگا دیئے گئے ہیں ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں- جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں-

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گزشتہ رات حمزہ شہباز کو نجی ہوٹل میں وزیراعلی ٰبنا دیا گیا سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے،آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے-

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل استفسار کیا کہ کیا یہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ عوام کو متاثر نہیں کر رہا؟ کیا غیر آئینی کام ہوتا رہے اسے تحفظ حاصل ہے؟کیا ہم یہاں بیٹھ کر غیر آئینی کام ہونے دیں؟ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے- چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے،پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے-چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹادیا

صدر مملکت عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹرینز پارلیمنٹ کے گارڈین ہیں، جسٹس جمال مندوخیل سوال کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں،-جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے؟ وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے سوال کیا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟

وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا کہ اپوزیشن نےقومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے پر ڈپٹی سپیکر پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، ڈپٹی سپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا ، ڈپٹی سپیکر نے ایوان کے اجلاس میں جو فیصلہ دیا وہ عدالت کے سامنے اس کا جواب دہ نہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی، اگرکسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے توحکومت الیکشن کرسکتی ہے، الیکشن کرانے پرقوم کے اربوں روپے خرچ ہوتےہیں، ہربارالیکشن سے قوم کااربوں کانقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے، انتخابات کی کال دےکر 90 دن کیلئے ملک کوبے یارومددگارچھوڑدیا جاتاہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پاکستان تحریک انصاف ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے ، کیا یہ بہتر ہے کہ دیگر چھوٹی جماعتیں غیر فطری اتحاد سے حکومت قائم کریں ، تحریک انصاف کے مقابل کیا یہ ملک کے لئے بہتر ہوگا ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ میری رائے میں عدالت کو اس بارے میں توجہ دینے کی ضرورت نہیں، وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد خارج ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے اسمبلی تحلیل کر دی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی، عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے ۔ وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ عدالت ماضی میں بھی اسمبلی کارروائیوں میں مداخلت سے احتراز برتتی رہی ، چودھری فضل الٰہی کیس میں ووٹ دینے ے روکا گیا اور تشدد کیا گیا، عدالت نے اس صورتحال میں بھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کی تھی ، ایوان کی کارروائی میں مداخلت عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، عدالت پارلیمان سے کہے کہ وہ اپنا گند خود صاف کرے ۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں میں دی گئی آبزرویشن کے پابند نہیں ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آسکتی ، 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل رولنگ آسکتی تھی ، اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے ؟۔وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ سپیکر کو معلوم ہو بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو سپیکر قانون سے ہٹ کر بھی ملک بچانے کیلئے اقدام لے سکتاہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر انحصار کیا ، قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی پر فرد واحد اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم نے آرٹیکل 58 کو نظر انداز کیا ، سپیکر کے سامنے کیا مواد موجود تھا کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو ختم کر دیا؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے پاس ووٹنگ کے دن مواد موجود تھا جس پر رولنگ دی گئی ڈپٹی سپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ معاملے پر مجھے نہیں علم، اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو آپ کو معلوم نہیں ا س پر بات نہ کریں ۔

اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار  کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مواد دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ڈپٹی اسپیکر کو 28مارچ کوووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا،ووٹنگ کےدن رولنگ آئی تحریک عدم اعتماد کو 28مار چ کو کیوں مسترد نہیں کیاگیا ؟وزیراعظم نے آرٹیکل 58کی حدود کو توڑا ،اس کے کیا نتائج ہوں گے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ختم کرسکتاتھا،وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اسمبلی تحلیل کی ، نعیم بخاری نے کہا کہ میں علی ظفر کے دلائل اپناتے ہوئے اپنے بھی مزید دلائل دوں گا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہم آپ کے دلائل کا انتظار کررہے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ سوال ہواتھا کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیاجاسکتا،پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جاسکتاہے،مجھے گزارشات فریز کرنے دیں ،عدالت کےسوالات کے جوابات دوں گا، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہم بھی آ پ کو سننے کے لیے بےتاب ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ ماضی میں عدالت عالیہ نے کیا کیا یہ سوال ہے، ایک حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہےعدالت نے الیکشن کرانے کی تجویز دی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر پر عدم اعتماد کی تحریک کو ختم کیے جانے کی کوئی مثال ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ ایسی مثال تو نہیں لیکن پوائنٹ آف آرڈر پر کوئی بھی قرارداد ختم کی جاسکتی ،

جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ اگر اسپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا،کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟ سولہ مارچ کو تمام ممبرز کومراسلہ بھیجا گیا جس میں تحریک پیش کرنے کا ذکر ہے، او آئی سی کا وزارتی اجلاس تھا، سینیٹ چیئرمین اور سی ڈی اے سے جگہ دینے کی بات کی گئی،سب نے جگہ نہ ہونے کے بارے میں آگا ہ کیا جس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلایا، میں مزید ایک گھنٹہ اور دلائل دونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زیرالتواتحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے،نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا،اب معاملہ عوام کے پاس ہے،سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے،

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ رولنگ پر اسپیکر اسد قیصر کے دستخط ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسدقیصر آج بھی اسپیکر قومی اسمبلی ہیں،تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی،عدالت بھی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرکے بعد میں خارج کرتی ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے نعیم بخاری سے سوال کیا کیا کہ اسپیکر اب بھی عہدے پر ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسپیکر آج بھی اسپیکر ہیں، 25مارچ کو اجلاس بلایا گیا ، دوسرا 28 مارچ کو بلایا گیا جس میں تحریک پیش کی گئی، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا جب تحریک پیش ہوجائے تو اسپیکر اس کو ختم کرسکتا ہے؟پوائنٹ آف آرڈر کیا ہوتا ہے،ہم اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ،نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر کی تشریح نہیں بتا سکتا، لیکن اجلاس میں بات کرنے کے لیے ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان میں اگر تحریک پیش کردی گئی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا جاسکتا،نعیم بخاری نے کہا کہ رولز لے مطابق تحریک پیش ہوجانے کے بعد نکتہ اعتراض لیا جاسکتا ہے،

جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ موشن اور ریزولوشن میں کیا فرق ہے ؟نعیم بخاری نے کہا کہ اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی فواد چودھری نے پوائنٹ آف آرڈر مانگ لیا، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہوجاتی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں لیا جا سکتا تھا، موشن اور تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں، موشن اور تحریک دونوں آپس میں رشتہ دار ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ اسپیکر کے آئینی اختیار کو کوئی رول ختم کرسکتا ہے ؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسپیکر کا کوئی عمل غیر آئینی ہے تو پھر کیا کیا جائے، نعیم بخاری نے کہا کہ آئین کئی معاملات میں خاموش ہے لیکن ایسے معاملات میں رولز موجود ہیں ، پارلیمان کے کئی معاملات رولز کے مطابق چلائے جاتے ہیں

نعیم بخاری نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کردیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کا آئینئ مینڈیٹ ہے، کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی مینڈیٹ سے انحراف کر سکتا ہے؟کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کیلئے پیش ہونا نہیں ؟تحریک عدم اعتماد کے علاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں درج نہیں،کیا اسمبلی رولز کا سہارا لیکر آئینی عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا آئینی عمل سے انحراف پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں 11 افراد شریک تھے، نعیم بخاری نے کہا کہ کمیٹی میں شرکت کےلیے 29 لوگوں کو نوٹس دیئے گئے تھے ، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا اس کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر خارجہ تھے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جی وزیرخارجہ موجود تھے، شرکا کی لسٹ میں تیسرا نمبر ہے، نعیم بخاری کی جانب سے وقفہ سوالات کا حوالہ دیا گیا ،نعیم بخاری نے کہا کہ تمام اپوزیشن اراکین نے کہا سوال نہیں پوچھنے صرف ووٹنگ کرائیں،اس شور شرابے میں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفنگ دی گئی،اس دن وزیر خارجہ چین کے دورے پر تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں،جسٹس مندو خیل نے کہا کہ مجھے وزیر خارجہ کے اس میٹنگ منٹس میں دستخط نظر نہیں آرہے ایک وزیر خارجہ کو پیغام آیا اور وہ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے،نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کاونسل کے اجلاس کےمنٹس سر بمہر لفافے پیش کروں ،وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہیے تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا، نعیم بخاری نے فواد چودھری کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس پر اپوزیشن پوچھ نہیں سکتی تھی؟ اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی

جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین اپریل قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون نے نکتہ اعتراض پرعدم اعتماد کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی قرار دیا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے رولنگ پڑھی گئی تھی اس پر اسپیکر کے دستخط ہیں کیا بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ رولنگ ان کو پہلے سے لکھ کر دی گئی تھی کہ وہ پڑھیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فوادچوہدری نے آرٹیکل 5 سے متصادم پر رولنگ مانگی، ممکن ہےارکان کہتے یہ آئین کیخلاف ہے، حق میں ووٹ نہیں دیں گے،ہوسکتا ہے کچھ لوگ خط کے تناظر میں تحریک کیخلاف ووٹ دیتے ،ووٹنگ کرانے کے بجائے تحریک ہی مسترد کردی گئی، ڈپٹی اسپیکر کو اس انداز میں تحریک مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا، اسپیکر نے رولنگ کے بعد ووٹنگ کیوں نہیں کرائی ؟رولنگ میں عدم اعتماد مسترد کرنا شائد اسپیکر کا اختیار نہیں تھا،ایسا لگتا ہے رولنگ لکھ کر ڈپٹی اسپیکر کو دی گئی اور انہوں نے پڑھ دی، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں ،میں پارلیمنٹ میں نہیں تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کیخلاف رولنگ پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا کیا دوبارہ عدم اعتماد لائی جاتی،نعیم بخاری نے کہا کہ ایسا کیا جاسکتا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سپیکر کے پاس اپیل ایبل ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ جی سپیکر تبدیل کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے کہہ رہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ا سپیکر کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے، آپ کے مطابق اراکین کو ڈپٹی ا سپیکر کیخلاف ا سپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا،آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی ،نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت اسمبلی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے؟ سپریم کورٹ میں نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہو گئے ،نعیم بخاری نے کہاکہ پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آرٹیکل 95 انڈپینڈنٹ آرٹیکل نہیں ہے؟اس میں عدم اعتماد تحریک کے حوالے سے اسپیکر کے کردار کی وضاحت کی گئی اس صورت میں اگر کوئی غیر آئینی کام ہو جائے تو کیا عدالت اس پر مداخلت نہیں کرسکتی؟ نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت کس حد تک مداخلت کرسکتی وہ عدالت نے طےکرنا ہے،

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد لیو گرانٹ ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے سوال کیا کہ لیو کون گرانٹ کرتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہاوس لیو گرانٹ کرتا ہے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کردیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کیا یہ آپکا آخری کیس ہے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپکی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری بات تو سن لیں، ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکوں گا عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفنگ دی گئی،قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمر اسماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں وزیراعظم سب سے بڑے ا سٹیک ہولڈر ہیں،وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے ،اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کو وجوہات بتانا ضروری نہیں،صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی،حکومت کی تشکیل ایوان میں کی جاتی ہے،آئین ارکان کی نہیں ایوان کی5 سالہ معیاد کی بات کرتا ہے،برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کردیا گیا ہے ہمارے آئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا،ووٹ ڈالنے کا حق آئین اور اسمبلی رولز سے مشروط ہے،اسپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئے عدالت نہیں آ سکتا،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے، پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی، اگر اسپیکر کم ووٹ لینے والے قائد ایوان کی کامیابی کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، پارلیمنٹ میں ہونے والی ہر کاروائی کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسپیکر ہاوس کا کسٹوڈین ہوتا ہے اسپیکر صرف اپنی ذاتی تسکین کیلئے عہدے پر نہیں بیٹھتا اسپیکر ایسا تو نہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے، باقی ممبران کو گڈ بائے کہہ دے،20فیصد ممبران نے جب تحریک پیش کر دی تو بحث کرانا چاہیے تھی،وزیر اعظم کو سب پتہ ہوتا ہے وہ جاتے ممبران سے پوچھتے وہ کیا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر 68 ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں تو کیا ہوگا؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر 172 ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ایک اسکیم کے تحت ہوتی ہے،وزیر اعظم کو اپنے ممبرز کی شناخت کرنا ضروری ہے،وزیر اعظم کو علم ہو کہ وہ کونسے 172 ممبرز ہیں جو ان کے ساتھ ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آئینی معاملے پر بات کررہے ہیں اورہمیں علم ہے کہ آئین ایک سیاسی دستاویز ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش کرنے کی منظوری کیلئے 20 فیصد یعنی 68 ارکان کا ہونا ضروری نہیں،اسمبلی میں کورم پورا کرنے کیلئے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے،تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر لیو گرانٹ کرتے ہوئے کوئی بنیاد بتانا ہوتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی کوئی بنیاد بتانا ضروری نہیں، تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آ جائیں گے تحریک پیش کرنے اور ووٹنگ میں 3سے 7 دن کا فرق بغیر وجہ نہیں، 7دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ لیو گرانٹ ہوگئی تو پھر ووٹنگ ہونی ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ لیو گرانٹ ہوئی ہی نہیں، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ پھر اسپیکر نے کیسے ووٹنگ کے لیے اجلاس بلالیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر نے لیو گرانٹ کی ہی نہیں،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ فواد چوہدری 28 مارچ کو اعتراض کرتے تو کیا تحریک پیش کرنے سے پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہو سکتی تھی،تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ اسپیکر نے قرار دیدیا کہ تحریک منظور ہوگئی آپ کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہو گیا، اگر 68 لوگ تحریک پیش کرنے کی منظوری اور 100 مخالفت کریں تو کیا ہوگا؟ ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت ہو تو ہی تحریک پیش کرنے کی منظوری ہوسکتی آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اکثریت مخالفت کرے تو تحریک مسترد ہوگی،تحریک پیش کرنے کی منظوری کا ذکر اسمبلی رولز میں ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے،ووٹنگ کے لیے 172 ارکان ہونے چاہیے،لیو گرانٹ اسٹیج پر 172 ارکان کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 55 کے تحت ایوان میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں، اگر لیو گرانٹ کے وقت 172 ارکان چاہیے تو پھر تو بات ہی ختم ہو گئی اسپیکر کے وکیل نے کہا رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا،تین اپریل کو بھی وہی اسپیکر تھا اور اسی کی رولنگ تھی، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے اس پر آپکو سننا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اور ا سپیکر رولنگ میں کتنے ٹائم کا فرق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں کیا دنیا میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیر اعظم بنے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آج ہی سماعت مکمل کرکے فیصلہ کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کنسرن نئے انتخابات کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے،عدالت نے آئین کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے،کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں، نتائج میں نہیں جائینگے،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپیکر نے کہہ دیا میں رولنگ دیتا ہوں کیونکہ میں سب سے اوپر ہوں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک بات نظر آرہی ہے کہ رولنگ غلط ہے،آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے، اب یہ بتائیں اگلا قدم کیا ہو گا،قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے ، آج فیصلہ سنائیں گے،اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد اور عملی ممکنات کو دیکھ کر ہی آگے چلیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ عوام کے پاس جایا جائے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت نتائج کو نہیں دیکھ رہی۔ ہم نے قانون کو دیکھنا ہے اور آئینی معاملات کو دیکھانے ہیں۔ یہ سب طے شدہ تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمینٹ کامیاب ہو اور کام کرے

دس منٹکے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے برطرف ملازمین کی نظرثانی مسترد کرکے بھی بحالی کا راستہ نکالا تھا،عدالت نے سیکڈ ملازمین کیس میں جو فیصلہ دیا وہ ہم نے دیکھاکیس میں عدالت نے نظر ثانی اپیلیں خارج کی تھیں ملازمین کو نوکریوں پر بحال کیا گیا ہم اس ملک کے مینڈیٹ کو کسی اور کی خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے،آج عدالت جو حکومت بنائے گی کیا وہ لوگوں کے ساتھ ہوگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے،اس وقت ملک میں ڈالر 190 تک پہنچ گیا ،ا سٹاک مارکیٹ نیچے جارہی ہے،سری لنکا کے حالات ہمارے سامنے ہیں

عدالت نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلالیا ،شہباز شریف نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں قانونی معاملات پر میرے وکیل بات کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی موجود ہے،ان تجاویز بھی لے لیں موجودہ مینڈیٹ 2018 کی اسمبلی کا ہے، آج اگر کوئی حکومت بنائے گا تو کتنی مستحکم ہو گی ،شہباز شریف نے کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، پارلیمنٹ خود مختار ہے،اسپیکرکے رولنگ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آئینی ہے یا غیر آئینی ،ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں ،ججز پر ہمیں فخر ہے،وقفے سے پہلے جو ریمارکس دیئے ا س پر کہوں گا کہ پارلیمنٹ کو بحال کریں،رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی،جوغلطیاں ہوئیں انکی توثیق اور سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،پارلیمنٹ میں عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے،ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، ہمارا اتحاد ملک کے بہترین جماعتوں پر مشتمل ہے ہم ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،میثاق معیشت کی بات میں نے کی تھی ہمارے پاس ایک ایجنڈا ہے ، یقین کریں ہم آگے بڑھیں گے،اس حکومت کے ایک اتحادی نے اپوزیشن کیمپ کوجوائن کیا،ہمارے پاس 177 ووٹ ہیں ہم اپنے آئین کی حفاظت کرینگے اورقوم کی خدمت کریں گے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ نے 2018 میں کتنی سیٹیں لی تھیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے 2018 میں 115 سیٹیں حاصل کی تھیں بطور اپوزیشن لیڈر چارٹر آف اکنامکس کی پیش کش کی،2018میں ڈالر 125 روپے کا تھا،آج 190 تک پہنچ چکا ہے،پارلیمنٹ ارکان کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے،پی ٹی آئی نے بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی،اپنی پہلی تقریر میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، عوام بھوکی ہو تو ملک کو قائد کا پاکستان کیسے کہیں گے، مطمئن ضمیر کیساتھ قبر میں جاوں گا،سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا، آج بھی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر دستخط کریں،

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی،شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کی مرمت ہم کر دینگے،ہم 184/3 کےتحت درخواستوں پر سماعت کررہے ہیں،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کا موقف سنا ،سوال یہ ہے کہ آپ آگے کیسے چلیں گے ،آپ کی حکومت پہلے پانچ سال حکومت کامیابی سے چلا چکی ہے، بطور اپوزیشن لیڈر پہلے دن سے الیکشن کی ڈیمانڈ کرتے رہے اب کیوں نہیں کررہے ، شہباز شریف نے کہا کہ اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کرینگے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے ،عام آدمی تباہ ہوگیا اس کیلئے ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب چاہتے ہیں اراکین اسمبلی کے نہیں عوام کے منتخب وزیراعظم بنیں،جنہوں نے عمران خان کو پلٹا ہے وہ شہباز شریف کو بخشیں گے؟ اپوزیشن کا الیکشن کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو ہونے دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عد م عتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو الیکشن میں جانے کے لیے آپ کو کتنا عرصہ لگے گا؟ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے،ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہو گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بخشنے اور نہ بخشنے کا بیان عدالت میں دیا یہ ایک سیاسی بیان ہے 2002سے ہم نے دیکھ لیا کسی سنگل پارٹی نے حکومت بنائی ہوحکومت جب بھی بنی اتحاد پر مشتمل تھی اٹارنی جنرل کی آخری باتیں دھمکی آمیز تھیں،کون کس کو نہیں چھوڑے گا، کس کو سرپرائز دے گا یہ نہیں کہنا چاہیے،وزیراعظم نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرپرائز پر اپنا فیصلہ واضح کر چکے ہیں، ن لیگی وکیل نے کہا کہ عدالت سیاسی تقاریر پر نہ جائے،منحرف ارکان کے علاوہ اپوزیشن کے پاس 177 ارکان ہے ،چیف جسٹس کے کہنے پر مخدوم علی خان نے اپوزیشن ارکان کی پارٹی وائز تفصیلات بتائیں ، ن لیگی وکیل نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ملکی اقتصادی صورتحال خراب ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے،اس کی نشاندہی بھی آ پ نے ریمارکس میں بھی کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کی وجہ سے ملکی اقتصادی حالات خراب ہیں،ملکی صورتحال پر ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے،ن لیگی وکیل نے کہا کہ اس وقت عدالت ریمیڈی دینے کی طرف سوچ رہی ہے،اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر مہنگا اور روپے کی قدر کم ہو گئی،عدالت نے کہا کہ یہ تمام معاشی مسائل ہیں،ن لیگی وکیل نے کہا کہ یہ معاشی مسائل کس نے پیدا کیے ہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں،آرٹیکل 184/3 میں کیس سن رہے ہیں، عوامی حقوق کا تحفظ کرینگے، ن لیگی وکیل نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا حکومت بلآخر انتخابات کی طرف جائے گی، جانتا تھا کہ اسپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں، حاجی سیف اللہ کیس امتیازی کیس ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ رولنگ ختم ہو اسمبلی بحال نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس نکتہ پر لگتا ہے تیاری کرکے آئے ہیں،آئین سے 58ٹو بی جمہوری انداز میں نکالا گیا تھا،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی مکمل،اب ہم معاملہ پر غور کریں گے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو دلائل دینے کی اجازت دے دی ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ میں دس منٹ سے زائد نہیں لوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پر بہت سنجیدہ الزامات عائد ہیں، سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، عدالت میرٹ پر جائے گی ،الزامات پر فیصلہ نہیں دے گی،

شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ 199ارکین قومی اسمبلی پر غداری کے الزمات لگائے گئے،میں قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تو میں سیاست چھوڑ دونگا جو سزا عدالت دے گی قبول ہوگی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ریمارکس غداری سے متعلق نہیں تھے وکلا نے وزیر اعظم ،صدر اور دیگر کے بارے میں بات کی اس پر ریمارکس دیئے،سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے کہ پتہ نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میاں صاحب چھوڑ دیں آپ میں سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا، شہباز شریف نے کہا کہ سازش کے ثبوت لے آئیں عدالت کی ہر سزا قبول کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی ہم ساڑھے 7 بجے فیصلہ سنائیں گے،افطاری کے بعد دوبارہ بیٹھیں گے،

بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بلاول بھٹو کے خاندان کی تیسری پیڑی سیاست میں ہے،سارے معاملے میں اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے،بلاول بھٹو کے خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں،سپریم کورٹ نے سماعت ملتوی کردی ،فیصلہ شام ساڑھے 7 بجے سنایا جائے گا

مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس