fbpx

سائنس و ٹیکنالوجی کی بڑی ہوئی سہولیات تحریر:ملک نصیر اعوان

‎ایک وقت تھا جب لوگ جنگلوں اور غاروں میں رہتے تھے اور ضروریات زندگی بھی وہیں سے پوری کیا کرتے تھے کسی قسم کی لالچ ،حرص وحوس نہیں تھی جب دل چاہتا تھا شکار کر کے تازہ گوشت کی صورت میں خوراک حاصل کر لیتے تھے آپس میں کسی قسم کی رنجشیں بھی نہیں تھیں جو کچھ ملتا تھا مل جل کر کھا لیا کرتے تھے سانس لینے کو تازہ ہوا میسر تھی کھانے کو قسم قسم کی تازہ سبزیاں ،پھل اور گوشت میسر تھا پینے کو تازہ پانی میسر تھا پتھر پر پتھر مار کر آگ جلاتے تھے اور پھر اسی پر کھانا بنایا جاتا تھا سو زندگی ہر قسم کی پریشانیوں سے پاک تھی پھر وقت بدلا ،سوچ بدلی، لوگ بدلے ۔تب انسان نے پہلی مرتبہ اپنی عقل کا استعمال کیا اس وقت انسان کی پہلی ایجاد پہیہ تھا ۔اہستہ آہستہ انسان نے اپنی عقل کو استعمال میں لاتے ہوۓ مختلف قسم کی ایجادات کیں وہ انسان جو غاروں اور جنگلوں میں رہتا تھا شاندار اور عیش و عشرت سے بھرے محلات میں رہنے لگا وہ انسان جو پہلے میلوں پیدل چلتا تھا اب وہ فضاؤں میں اڑنے گا نت نئی اور آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے انسان نے اپنے لیے پر مسرت زندگی تخلیق کر لی ۔ اور پوری دنیا کو اپنی ہتھیلی میں قابو کر لیا پوری دنیا ایک گلوب کی شکل اختیار کر گئی یہ سب سائنس اور ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے بر صغیر میں مغل بادشاہ خطوط کی ترسیلات کا کام کبوتروں سے لیا کرتے تھے جب سائنسی دور کا آغاز ہوا تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ مواصلات کے نظام میں بھی خاصی ترقی ہوئی ۔موٹر اور ریل گاڑی کی ایجاد کے بعد یہ ڈاک کا ذریعہ بنیں اور پھر ٹیلی گراف کی ایجاد نے موٹر اور ریل گاڑی کی محتاجی بھی ختم کر دی۔
‎سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے مختلف قسم کی ایجادات کر کے دیدہ آنکھ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا آج جو ہم اپنے گھروں میں الیکٹرونک ڈیوائسز سے جتنے بھی فوائد حاصل کر رہے ہیں جب چاہا بٹن آن کر کے روشنی حاصل کر لی اور جب چاہا بٹن آف کر دیا ۔جب گرمی محسوس ہوئی بٹن آن کر کے ایئر کنڈیشنر ان کر لیا۔ہماری زندگی بس ایک بٹن کی محتاج رہ گئی ہے ۔سائنس و ٹیکنالوجی نے ہماری خواہشوں کے سرحدوں کو سمیٹ کر ہمارے قدموں میں لا کھڑا کیا پہلے ہوا میں اڑنا انسان کے لیے ایک خواب تھا مگر انسان نے اس خواب کو بھی حقیقت میں بدل دیا ۔اب انسان فضاؤں میں سفر کر رہا ہے سائنس وٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی آدمی اٹھ کر آجاۓ تو وہ ہمیں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھے گا ۔یہ برقی آلات،جگ مگ کرتی عالیشان عمارات اور مہنگی گاڑیاں ، بحر و بر میں چلنے والی بھاری مشینری یہ سب سائنس کی مرہون منت ہیں ۔ سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ ہر مقام سائنسی بہاروں کا نظارہ پیش کرتا ہوا ہی نظر آتا ہے

‏@Awan_Zaaada