لاٹھی چارج،شیلنگ کے باوجود تحریک لبیک کارکنان کے جذبے بلند،مارچ رواں دواں

فرانس کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے خلاف لیاقت باغ سے فیض آباد تک تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی کا احتجاجی مارچ رکاوٹیں عبور کرتا ہوا راولپنڈی پہنچ گیا پولیس کی جانب سے ریلی کے شرکاکو روکنے پر پولیس اور کارکنوں میں جھڑپوں کے دوران پتھراؤ،لاٹھی چارج اور شیلنگ کے باعث متعدد کارکن و پولیس اہلکار زخمی ہو گئے پولیس اور شرکاءکے درمیان تصادم کے نتیجے میں لیاقت باغ کا علاقہ میدان جنگ بنا رہاشرکا نے دھکے لگا کر کنٹینر راستے سے ہٹا دیئے جبکہ ریلی کے ہزاروں شرکا تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے فیض آباد پہنچ گئے

قبل ازیں پولیس نے لیاقت باغ اور اس کے گردونواح سے 60سے زائد کارکنان کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم اس وقت شروع ہوا جب ریلی کے شرکا اتوار کی صبح ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں لیاقت باغ پہنچ رہے تھے اس موقع پر پولیس نے جمع ہونے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ شروع کر دی جس پر کارکنان نے جوابی پتھراؤ شروع کر دیا اس دوران میڈیا کے ایک فوٹو گرافر اور بعض پولیس اہلکاروں سمیت متعدد کارکنان زخمی ہو گئے شیلنگ اور پتھراؤ کے باعث لیاقت باغ کا علاقہ میدان جنگ بن گیا جبکہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کی بڑی تعداد راولپنڈی پریس کلب میں محصور ہو کر رہ گئی سی پی اوراولپنڈی اس تمام کاروائی کی بذات خود نگرانی کرتے رہے اور ہدایات جاری کرتے رہے تصادم کی اطلاع ملتے ہی راولپنڈی کے مختلف علاقوں کے علاوہ دیگر تحصیلوں سے بھی کارکنان ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں پہنچنا شروع ہو گئے

کارکنان کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث پولیس اور انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی راولپنڈی میں تحریک لبیک پاکستان کی ناموس رسالت ریلی کی وجہ سے جڑواں شہروں کے علاوہ راولپنڈی ڈویژن میں اتوار کی علی الصبح سے ہی موبائل فون اور انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی تھی جبکہ میٹرو بس سروس کو بھی مکمل طور پر معطل کیا گیا تھا ریلی کے دوران ممکنہ ہنگامہ آرائی کے باعث مری روڈ سمیت راولپنڈی شہر اور کینٹ کے تمام بڑے تجارتی و کاروباری مراکزاور ہول سیل مارکیٹیں مکمل بند رہیں تاہم اندرون رہائشی علاقوں میں تمام بازار کھلے رہے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات گئے مری روڈ اور اس کے تمام داخلی راستوں کو کنٹینر اور خاردار تاروں کے علاوہ بھاری رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا تھا جس سے راول روڈ،کری روڈ اور اندرون شہر سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہا اس موقع پر سٹی ٹریفک پولیس مکمل طور پر غائب رہی اور مختلف مقامات پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کھلواتے رہے تاہم تمام تر بندشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ٹی ایل پی کی کارکنوں کی بڑی تعداد اچانک لیاقت باغ کے گردونواح سے نکل کر لیاقت باغ چوک مری روڈ پہنچی اور مری روڈ پر مارچ کرکے نعرہ بازی شروع کی تو راولپنڈی پولیس نے اچانک احتجاج کرنے والے شرکا پر شیلنگ شروع کردی جس پر کارکن مشتعل ہوئے

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد وقفے وقفے سے مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپیں جاری رہیں جھڑپوں و پتھراؤ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور فوٹو جرنلسٹ بھی زخمی ہوا جبکہ پولیس نے لیاقت باغ اور گردونواح سے 60سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیاکارکنوں کی تعداد میں اضافے کے باعث پولیس اہلکار بھی اپنے پوائنٹس تک محدود ہو کر رہ گئے اس دوران اتوار کی دوپہر ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ خادم رضوی کے صاحبزادے سعد رضوی دیگر علما کے ہمراہ لیاقت باغ پہنچ گئے ہیں جنہوں نے لیاقت باغ میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں، شیلنگ، تشدد اور چھاپوں سے کوئی حضور ﷺ کے غلاموں کو روک نہیں سکتا

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو فی الفور پاکستان سے واپس بھجوایا جائے فرانس سے تمام تر سفارتی وتجارتی اور اقتصادی روابط ختم کئے جائیں انہوں نے کہا کہ پولیس نے شیلنگ تو کر دی لیکن اب پولیس پریشان ہے اسے شیل ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے لیکن تحریک لبیک کے جوانوں نے محبت رسول میں یزیدی حکومت کے غلاموں کو بھگادیاسعد رضوی کی کال پر کارکنان اتوار کی سہ پہر لیاقت باغ سے فیض آباد کے لئے روانہ ہو گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.