fbpx

تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
"کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے