fbpx

ٹھٹھہ :کينجھر جھيل ،اداروں کی غفلت،مچھلی، سائبیرین اور مقامی پرندوں کی کھلے عام نسل کشی جاری

باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ(راجہ قریشی نامہ نگار) موسم سرما میں سرد ترین ممالک سے ہجرت کر کے سندھ بشمول ٹھٹھہ کا رخ کرنے والے آبی پرندوں کی نسل خطرے میں پڑ گئی۔سندھ میں آئے مہمان پرندوں کے شکار سے ان کی نسل کو خطرات لاحق ہونے کے ساتھ جھیل کا قدرتی حسن بھی ماند پڑ رہا ہے۔
ہر سال تقریبا 9 لاکھ پرندے کينجھر جھیل پر آتے ہیں لیکن وہاں مسلح شکاری سرگرم رہتے ہیں۔ گو اس سال آنے والے پرندوں کی تعداد کم ہے لیکن جو آتے ہیں انہیں جال لگا کر پکڑ لیا جاتا ہے۔آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہمان پرندوں کو غیر قانونی طور پر شکار سے روکنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔

ايک طرف کينجھر جھيل پر کھلے عام مچھلی کی نسل کشی ہو رہی ہے محکمہ وائلڈ لائف کا کینجھر میں نام ونشان بھی نہیں ہے ،محکمہ وائلڈ لائف فقط عرب شہزادوں کے آگے پیچھے دوڑنے میں مصروف ہیں ۔ گذشتہ روز DG فشريز نے ایک شکایت پر کینجھر جھیل میں آپریشن کرنے کرنے کا حکم جاری کردیا ۔ لیکن افسوس کینجھر جھیل 105 کلو ميٹرکی پٹی پر مشتمل ہے اس جھیل کی صرف ایک مختصر جگہ پر چھاپا مار کر دو تین غیر قانونی جال ضبط کرنے سے کینجھر جھیل کو بچايا نہیں جاسکتا۔ مقامي لوگوں کی طرف سے شکایت موصول ہوئی ہے کہ ہمارے لیگل جال بھی ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز ٹھٹہ لے گیا ہے ۔دوسری طرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر کینجھر کو اس آپریشن کا علم تک نہیں، مطلب کینجھرجھیل کے انچارج کو آپریشن کا پتہ تک نہیں۔ لوگوں کاکہناہے کہ ہم التجا کرتے ہیں کہ خدارا فقط فارمیلٹی پوری کرنے سے کینجھر جھیل کو بچایا نہیں جا سکتا یہاں مسلسل سرچ آپریشن کی ضرورت ہے جو ڈپٹی ڈائیریکٹرکی غفلت اوراقرباء پروری کی وجہ کامیاب نہیں ہوسکتا، اور لائسنس کے حوالے سے کسی بھی سینٹر پر کوئی نوٹس آویزاں نہیں کیا گیا یا نہ ہی کوئی عملہ نظر آتاہے ۔ کینجھر جھیل میں کروڑوں کی تعداد میں مچھلی کی ہیچری کوچھوڑا گیا جوڈسٹرکٹ منیجمنٹ کی لاپرواہی کی وجہ سے تباہ ہورہا ہے ۔ خداراکینجھرجھیل کے حسن کوماند ہونے سے بچانے کیلئے مچھلی اور پردیسی و مقامی پرندوں کی نسل کشی کو روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں-