fbpx

سٹیل ملز چوروں کے حوالے ،روزانہ کروڑوں روپے کی مالیت کا لوہا ٹرکوں پر لوڈ ہوکر چوری ہونے لگا

باغی ٹی وی : ٹھٹھہ(راجہ قریشی نامہ نگار) سٹیل ملز چوروں کے حوالے ،روزانہ کروڑوں روپے کی مالیت کا لوہا ٹرکوں پر لوڈ ہوکر چوری ہونے لگا.پولیس خاموش تماشائی، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، پولیس صرف کارروائی دکھانے کیلئے چھوٹے چوروں کو پکڑ لیتی ہے بڑے مگرمچھ محفوظ.
تفصیلات کے مطابق شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نشانی پاکستان اسٹیل مل کو لوٹا جا رہا ہے پہلے لوٹا حکومتوں نے پھر لوٹا اسٹیبلشمنٹ نے اب لوٹ رہ ے ہیں مقامی چور علی محمد گوٹھ سے لیکر گگرپاٹک چوروں کی رینج بن چکی ہے ،روزانہ لاکھوں کروڑوں روپے کی مالیت کا لوہا چوری کیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ملک کے اتنے بڑے ادارے کو جس کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا تھا آج کل اس کو لٹیروں نے چوروں نے بے جان ڈانچہ بنا دیا جو آ رہا ہے لوہے کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ رہا ہے پولیس بے بس خاموش تماشائی دو چار چھوٹے موٹے چور پکڑ کر بات دبا دی جاتی ہے اصل میں ٹرکوں کے حساب سے رات کے اوقات میں لوہا چوری ہوتا ہے جس میں گیٹ نمبر 9 گیٹ نمبر 5 گیٹ نمبر چار لوہا چور استعمال کرتے ہیں آجکل ذرائع کی رپورٹ یہ ہے کے گیٹ نمبر چار چوروں کے لئے کھلا ہوا ہے جہاں سے رات بھر چور آتے جاتے رہتے ہیں اور ہمارے ادارے سیکورٹی فورس گہری نیند سوئے ہوئے ہیں سب کو پتا ہے ہر ادارے کو پتہ ہے کہ کون کون سے لوگ لوہا چوری کرواتے ہیں اور وہ لوگ بہت بھاری رقم بھتہ کے طور پر اداروں کے افسروں کے منہ میں ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے افسروں کا منہ کھلنے سے لاچار ہے علی محمد گھوٹ کے اندر سندھی گوٹھ پی کے اندر اگر گودام اور کباڑیوں کاآپریشن کیا جائے تو بہت بڑی بھاری مقدار میں سٹیل مل کا چوری شدہ لوہا سامنے آجائے گا لیکن افسوس قانون کے رکھوالے آج کل ان لوہا چور مافیا کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں عوامی وسماجی حلقوں نے حکومت وقت سے اپیل کی ہے کہ اسٹیل مل کے اندر سے جو لوہا چوری ہوتا ہے ان چوروں کو اور ان کے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے انہوں نے جو غیر قانونی طریقے سے گاڑیاں بنگلے بنائے ہیں وہ سب ضبط کئےجائیں اور اس ادارے پر رحم کیا جائے دنیا کے ملک اپنے ملکوں میں بڑے بڑے ادارے بناتے ہیں اور ہمارے ملک میں جو بڑے بڑے ادارے بنے ہوئے ہیں ان کو تباہ کیا جا رہا ہے بلاول بھٹو زرداری آپ سے اپیل کرتے ہیں کے نوٹس لیا جائے ادارے کومزید تباہی سے بچایا جائے