کورونا وائرس نے امریکی جیلوں میں پنجے گاڑ دئے،امریکی حکومت بے بس ہوگئی

واشنگٹن:کورونا وائرس نے امریکی جیلوں میں پنجے گاڑ دئے،امریکی حکومت بے بس ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس امریکی جیلوں میں بھی پھیل گیا ہے اور قیدیوں کے اژدھام اور وسائل کی کمی کے باعث سیکڑوں قیدیوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

سی این این کے مطابق کیلی فورنیا کے محکمہ جیل خانہ جات نے بتایا ہے کہ سن کوئینٹن جیل میں کورونا وائرس میں مبتلا سات قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔ محکمہ اصلاح و بہبود زنداں کے مطابق ریاست کی جیلوں میں کورونا میں متبلا کل قیدیوں کی آدھی تعداد سن کوئینٹن جیل میں موجود ہے۔

سن کوئنٹن جیل میں کورونا کے پھیلاؤ سے قبل، ریاست اوہائیو، ایلی نوائے، کلوراڈو اور ٹیکساس کی جیلیں کورونا کا شکار ہو چکی ہیں۔ ٹیکساس میں کم سے کم اکیانوے قیدی اور جیل کے نو ملازمین کورونا کے باعث مر چکے ہیں۔ ریاست کی جیلوں میں مرنے والے مزید چھبیس قیدیوں کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں کہ آیا اُن کی موت کورونا وائرس سے ہوئی ہے یا نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس کی جیلوں میں تقریبا ایک لاکھ تیس ہزار قیدی موجود ہیں جن میں سے دس ہزار پانچ سو کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاستی جیلوں کے تقریبا نو سو ستائیس ملازمین بھی کورونا میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چھے جون کے بعد سے امریکہ بھر کی جیلوں میں بند تیرہ لاکھ قیدیوں میں سے بیالیس ہزار ایک سو قیدی کورونا میں مبتلا ہوئے ہیں جن میں سے پانچ سو دس ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں کی اندرونی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا امکان شدت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ بھر کی جیلیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اہم ترین مراکز میں تبدیل ہو گئی ہیں اور سن کوئنٹن جیل، اس کی صرف ایک مثال ہے۔

سی این این کے مطابق قیدیوں کا کہنا ہے کہ جو ماسک انہیں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فراہم کیے جارہے ہیں وہ انتہائی ناقص اور غیر معیاری ہیں اور ان کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز تک ریاست میری لینڈ کے شہر پرنس جارج کی جیلوں میں بند انیس ہزار چارسو چھپن قیدیوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ بھر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چھتیس ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ بتیس لاکھ سے زائد افراد اس موذی وائرس میں مبتلا بتائے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.