fbpx

جان بوجھ کرافغانستان سے امریکی انخلاء کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا، نتائج ہمیں بھگتنا پڑینگے: فواد چوہدری

اسلام آباد:افغانستان سے امریکی انخلاء کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا، نتائج ہمیں بھگتنا پڑینگے: فواد چوہدری نے امریکہ کوبے نقاب کردیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ امریکا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اڈے نہیں دیں گے، پوری کوشش ہے افغانستان کے اندر ہونے والی کسی لڑائی کا حصہ نہ بنیں، ہم امن میں شراکت داری رہیں گے لیکن تنازع میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔

فواد چوہدری نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے، بدقسمتی سے ایسا ہو گا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے اور اس کے نتائج ہم جیسے ممالک کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک سے متعلق موقف ایک ہے، افغانستان کے اندر جو صورتحال بن رہی ہے اس میں ہماری اتفاق رائے ہے کہ وہاں پر ایک ایسا سسٹم آنا چاہیے جس میں تمام دھڑے شامل ہوں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ افغانستان کے اندر ہونے والی کسی لڑائی کا حصہ نہ بنیں، کوشش کر رہے ہیں کہ تمام دھڑے آپس میں بیٹھ کر مفاہمت کریں۔ دیکھتے ہیں ہم وہاں تک کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔

باڑ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی بارڈر ہی موجود نہیں تھا تو پتہ ہی نہیں تھا کہ کہاں سے پاکستان شروع ہو رہا ہے اور کہاں سے افغانستان شروع ہو رہا ہے۔ اس لیے باڑ ضروری تھی، اس کے بعد بارڈر سکیورٹی اور کسٹمز کا جو معاملہ شروع ہوا ہے اس کے بعد استحکام لانے کی ضرورت ہے اور آمدورفت پر کافی کنٹرول آ جائے گا۔اس کے بعد ہم پوزیشن میں ہوں گے کہ افغانستان سے خود کو علیحدہ کر لیں۔ وہاں کی اندرونی صورتحال سے ہم اپنے آپ کو دور کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ماضی میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ہمیں دوبارہ جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ امریکا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، امریکا کو اڈے نہیں دیں گے، وزیراعظم بھی اعلان کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت پالیسی ہم امن میں شراکت داری رہیں گے لیکن تنازع میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے، اگر بدقسمتی سے ایسا ہو گا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے، اور اس کے نتائج ہم جیسے ممالک کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ ہمارے خطے میں تنازع ہیں، اس خطے میں دنیا کی سپر پاورز ہیں۔