fbpx

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورکےلئےبڑااعزاز،وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر اصغرزیدی کی کوششیں رنگ لے آئیں

لاہور:گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے لئے بڑا اعزاز،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کی کوششیں رنگ لے آئیں،اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کی تحقیق کی بنیاد پر بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم قانون سازی کا آغاز ہوگیا

ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر زیدی کی زیرقیادت تحقیق اور اس سے فراہم کردہ عدادوشمار کی بنیاد پر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز بل کے مسودے کو تیار کیا گیا

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بل کو قومی اسمبلی میں رواں ہفتے بروز پیر پیش کیا جسے حکومت اور اپوزیشن ممبران کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ بل دستخط کے لئے صدر کو بھیجا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد اسلام آباد کے بزرگ شہریوں کو معاشرتی اور معاشی طور پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

بل کے مطابق بزرگ شہریوں کے لئے فنڈ قائم کیا جائے گا اور ایک کونسل بھی بنائی ہے ، جس میں حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کے ممبران بھی شامل ہونگے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود ، راحت اور وقار کی فراہمی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔

بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سابق وفاقی سکریٹری برائے انسانی حقوق ربیعہ جاویری آغا نے ایک مبارکبادی پیغام ٹویٹ کیا

پیغام میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سازی کا کریڈٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی اور برٹش کونسل کی تحقیق کو جاتا ہے جس کی بنیاد پر قانون کے مسودے کو تیار کیا گیا

2019 میں برٹش کونسل پاکستان نے ایک تحقیقی منصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد پاکستان میں بوڑھے افراد کے حقوق کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا تھا

یہ پروجیکٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کی زیرقیادت سلویہ اسٹیفانوونی اور کیملا ولیمسن کے اشتراک سے چلایا گیا

تحقیقی منصوبےسے ضروری اعداد و شمار اور سفارشات مہیا ہوئیں جنہوں نے انسانی حقوق کے اس بل کو تیار کرنے میں مدد فراہم کی۔

وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی نے کہا کہ مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے میری تحقیق سینئر شہریوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے قانون سازی کا باعث بنی ہے۔

پروفیسر زیدی نے مزید کہا کہ مجھے اس تحقیق کے ذریعہ پیدا ہونے والے معاشرتی اثرات پر فخر ہے اور چاہتا میری یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ بھی ایسی تحقیقی کریں جس کا پاکستان کو فائدہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا اصل چیلنج اس قانون پر عمل درآمد ہو گا۔

وائس چانسلر نے اپنی تحقیقی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں بزرگ شہریوں کی تعداد 2030 تک دوگنی ہوجائے گی اور 2050 تک 40 ملین کے قریب پہنچ جائے گی،

پروفیسر زیدی کا خیال ہے کہ پنشن پروگرامز ذریعے بوڑھوں اور خاص طور پر عمر رسیدہ خواتین کو محفوظ آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینا پاکستان میں ترجیح ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملک میں بنیادی صحت کی سہولیات بڑی عمر کے لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔

وائس چانسلر نے ہر طرح کی عمر کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے اور ایسا ماحول مہیا کرنے جس میں بوڑھے افراد کو تشدد اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جائے کی ضرورت پر زور دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.