fbpx

انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی:عشرت آفرین کی شاعرانہ زندگی

انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

عشرت آفرین

تاریخ پیدائش :25دسمبر 1956ء
| کراچی، سندھ
رشتہ دار:علی سردار جعفری (خسر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشرت آفرین کا شمار پاکستان سے تعلق رکھنے والی معروف ترین شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ شاعری میں اپنے تانیثی خیالات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی پیدائش ۲۵ دسمبر ۱۹۵۶ کو کراچی کی ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو ادبیاب میں ایم اے کیا۔
ٍ عشرت آفرین نے اوئل عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا، ان کی تخلیقات چودہ برس کی عمر سے شائع ہونے لگی تھیں۔ اس کے بعد ان کا یہ شعری سفر تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے ’کنج پیلے پھولوں کا‘ اور ’دھوپ اپنے حصے کی‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تخلیقات ہند و پاک سے شائع ہونے والے اہم ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔
عشرت آفرین نے ان پیج میں شامل اردو خط نوری نستعلیق کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ ان دونوں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں اور یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اردو شعبہ سے وابستہ ہیں۔ عشرت آفرین کو ان کی ادبی خدمات کے لیے کئی اہم ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

غزل
۔۔۔۔۔
یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی
عجب جذبے عجب تیور کی لڑکی

یوں ہی زخمی نہیں ہیں ہاتھ میرے
تراشی میں نے اک پتھر کی لڑکی

کھڑی ہے فکر کے آذر کدے میں
بریدہ دست پھر آذر کی لڑکی

انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

سزاوار ہنر مجھ کو نہ ٹھہرا
یہ فن میرا نہ میں آذر کی لڑکی

بکھر کر شیشہ شیشہ ریزہ ریزہ
سمٹ کر پھول سے پیکر کی لڑکی

حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے
کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی

غزل
۔۔۔۔۔
وحشت سی وحشت ہوتی ہے
زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے
جل بجھنے والوں سے پوچھو
غم کی کیا حدت ہوتی ہے
رہن نہ رکھ دینا بینائی
اس کی بھی مدت ہوتی ہے
سارے قرض چکا دینے کی
کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے
دل اور جان کے سودے جو ہیں
ان میں کب حجت ہوتی ہے
خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں
تھوڑی سی خفت ہوتی ہے
اپنے آپ سے ملنے میں بھی
اب کتنی دقت ہوتی ہے
خود سے باتیں کرنے کی بھی
اب کس کو فرصت ہوتی ہے
کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں
اپنے ہاں برکت ہوتی ہے
سونا سی مٹی کے گھر میں
کب ہم سے محنت ہوتی ہے
دھان ہمارے چڑیا کھائیں
چڑیوں کو عادت ہوت ہوتی ہے
بچوں سے کیا شکوہ کرنا
مٹی میں الفت ہوتی ہے
سبز کواڑوں کی جھریوں میں
جگنو یا حیرت ہوتی ہے
ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں
کیا اجلی رنگت ہوتی ہے
پھٹی پرانی سی چنری میں
کیا بھولی صورت ہوتی ہے
چاول کی پیلی روٹی میں
کیا سوندھی لذت ہوتی ہے
رلی کے ایک اک ٹانکے میں
پوروں کی چاہت ہوتی ہے
جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں
کب کوئی زحمت ہوتی ہے
شام کو تیرا ہنس کر ملنا
دن بھر کی اجرت ہوتی ہے